فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 94 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 94

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 94 لئے نماز میں آخری مقام سجدہ کا ہے جب انسان نیازمندی کے انتہائی مقام پر پہنچتا ہے تو اس وقت وہ سجدہ ہی کرنا چاہتا ہے۔جانوروں تک میں بھی یہ حالت مشاہدہ کی جاتی ہے کتے بھی جب اپنے مالک سے محبت کرتے ہیں تو آ کر اس کے پاؤں پر اپنا سر رکھ دیتے ہیں اور اپنی محبت کے تعلق کا اظہار سجدہ کی صورت میں کرتے ہیں۔اس سے صاف پایا جاتا ہے کہ جسم کو روح کے ساتھ خاص تعلق ہے۔ایسا ہی روح کی حالتوں کا اثر جسم پر نمودار ہو جاتا ہے۔جب روح غمناک ہو تو جسم پر بھی اس کے اثر ظاہر ہوتے ہیں اور آنسو اور پژمردگی ظاہر ہوتی ہے اگر روح اور جسم کا باہم تعلق نہیں تو ایسا کیوں ہوتا ہے۔دوران خون بھی قلب کا ایک کام ہے مگر اس میں بھی شک نہیں کہ قلب آبپاشی جسم کیلئے ایک انجن ہے۔اس کے بسط اور قبض سے سب کچھ ہوتا ہے۔غرض جسمانی اور روحانی سلسلے دونوں برابر چلتے ہیں روح میں جب عاجزی پیدا ہوتی ہے پھر جسم میں پیدا ہو جاتی ہے اس لئے جب روح میں واقعی عاجزی اور نیاز مندی ہو تو جسم میں اس کے آثار خود بخود ظاہر ہو جاتے ہیں اور ایسا ہی جسم پر ایک الگ اثر پڑتا ہے تو روح بھی اس سے متاثر ہو ہی جاتی ہے اس لئے ضروری ہے کہ جب خدا تعالیٰ کے حضور نماز میں کھڑے ہو تو چاہئے کہ اپنے وجود سے عاجزی اور ارادت مندی کا اظہار کر وا گر چہ اس وقت یہ ایک قسم کا نفاق ہوتا ہے مگر رفتہ رفتہ اس کا اثر دائمی ہو جاتا ہے اور واقعی روح میں وہ نیاز مندی اور فروتنی پیدا ہونے لگتی ہے۔" الحکم نمبر 8 جلد 7 مؤرخہ 28 فروری 1903 ، صفحہ 3) (۱۱۳) مردہ کی آواز سوال:۔کیا مردہ کی آواز دنیا میں آتی ہے؟ جواب:۔"خدا تعالیٰ کی آواز تو ہمیشہ آتی ہے مگر مردوں کی نہیں آتی۔اگر کہیں کسی مردے کی آواز آتی ہے تو خدا کی معرفت یعنی خدا تعالیٰ کوئی خبر ان کے متعلق دے دیتا ہے اصل یہ ہے کہ کوئی ہو خواہ نبی ہو یا صدیق یہ حال ہے کہ آنرا کہ خبر شد خبرش باز نیامد۔اللہ تعالیٰ ان کے درمیان اور اہل وعیال کے درمیان ایک حجاب رکھ دیتا ہے وہ سب تعلق قطع ہو جاتے ہیں اسی لئے فرمایا ہے فَلَا اَنْسَابَ بَيْنَهُمْ۔الحکم نمبر 29 جلد 6 مؤرخہ 17 اگست 1902 ، صفحہ 9