فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 90 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 90

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 90 90 نَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِی اسی طرح پر غلطیاں پیدا ہوتی گئیں اصول کو نہ سمجھا کچھ کا کچھ بگاڑ کر بنالیا اور نتیجہ یہ ہوا کہ شرک اور بت پرستی نے اس کی جگہ لے لی۔ہماری تصویر کی اصل غرض وہی تھی جو ہم نے بیان کر دی کہ لنڈن کے لوگوں کو اطلاع ہو اور اس طرح پر ایک اشتہار ہو جاوے۔" فرمایا:۔الحکم نمبر 39 جلد 5 مؤرخہ 24 اکتوبر 1901، صفحہ 2) غرض تصویر شیخ کا مسئلہ ہندوؤں کی ایجاد اور ہندوؤں ہی سے لیا گیا ہے۔چنانچہ قلب جاری ہونے کا مسئلہ بھی ہندوؤں ہی سے لیا گیا ہے۔قرآن میں اس کا ذکر نہیں اگر خدا تعالیٰ کی اصل غرض انسان کی پیدائش سے یہ ہوتی تو پھر اتنی بڑی تعلیم کی کیا ضرورت تھی صرف اجرائے قلب کا مسئلہ بتا کر اس کے طریقے بتا دیئے جاتے۔مجھے ایک شخص نے معتبر روایت کی بنا پر بتایا کہ ہندو کا قلب رام رام پر جاری تھا۔ایک مسلمان اس کے پاس آ گیا اس کا قلب بھی رام رام پر جاری ہو گیا۔یہ دھوکا نہیں کھانا چاہئے رام خدا کا نام نہیں ہے دیانند نے بھی اس پر گواہی دی ہے کہ یہ خدا کا نام نہیں۔قلب جاری ہونے کا دراصل ایک کھیل ہے جو سادہ لوح جہلا کو اپنے دام میں پھنسانے کیلئے کیا جاتا ہے۔اگر لوٹا لوٹا کہا جاوے تو اس پر بھی قلب جاری ہو سکتا ہے۔اگر اللہ کے ساتھ ہو تو پھر وہی بولتا ہے یہ تعلیم قرآن نے نہیں دی ہے بلکہ اس سے بہتر تعلیم دی ہے۔إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ خدا یہ چاہتا ہے کہ سارا وجود ہی قلب ہو جاوے ورنہ اگر وجود سے خدا کا ذکر جاری نہیں ہوتا تو ایسا قلب قلب نہیں بلکہ کلب ہے۔خدا یہی چاہتا ہے کہ خدا میں فنا ہو جاؤ اور اس کے حدود شرائع کی عظمت کرو۔قرآن فنا نظری کی تعلیم دیتا ہے میں نے آزما کر دیکھا ہے کہ قلب جاری ہونے کی صرف ایک مشق ہے جس کا انحصار اصلاح و تقویٰ پر نہیں ہے۔ایک شخص منٹگمری یا ملتان کے ضلع کا مجھے چیف کورٹ میں ملا کرتا تھا۔اسے اجرائے قلب کی خوب مشق تھی۔پس میرے نزدیک یہ کوئی قابل وقعت بات نہیں اور خدا تعالیٰ نے اس کو کوئی عزت اور وقعت نہیں دی۔خدا تعالیٰ کا منشاء اور قرآن شریف کی تعلیم کا مقصد صرف یہ تھا کہ قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّهَا کپڑا جب تک سارا نہ دھویا جاوے وہ پاک نہیں ہوسکتا اسی طرح پر انسان کے سارے جوارح اس قابل ہیں کہ وہ دھوئے جاویں کسی ایک کے دھونے سے کچھ نہیں ہوتا۔اس کے سوا