فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 89
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 89 فرمایا:۔(۱۰۹) تصور شیخ " تصور شیخ کی بابت پوچھو تو اس کا کوئی پتہ نہیں۔اصل یہ ہے کہ صالحین اور فانین فی اللہ کی محبت ایک عمدہ شے ہے۔لیکن حفظ مراتب ضروری ہے۔گر حفظ مراتب نہ کنی زندیقی پس خدا کو خدا کی جگہ رسول کو رسول کی جگہ سمجھو اور خدا کے کلام کو دستور العمل ٹھہرا لو۔اس سے زیادہ چونکہ قرآن شریف میں اور کچھ نہیں کہ كُونُوا مَعَ الصَّادِقِین پس صادقوں اور فانی فی اللہ کی صحبت تو ضروری ہے اور یہ کہیں نہیں کہا گیا کہ تم اسے ہی سب کچھ مجھو اور یا قرآن شریف میں یہ حکم ہے إن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْسِبُكُمُ اللهُ اس میں یہ نہیں کہا گیا کہ مجھے خدا سمجھ لو بلکہ یہ فرمایا کہ اگر خدا کے محبوب بننا چاہتے ہو تو اس کی ایک ہی راہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ کی اتباع کرو۔اتباع کا حکم تو دیا ہے مگر تصور شیخ کا حکم قرآن شریف میں پایا نہیں جاتا۔" سوال :۔جولوگ تصور شیخ کرتے ہیں وہ کہتے ہیں ہم شیخ کو خدا انہیں سمجھتے۔جواب:۔"مانا کہ وہ ایسا کہتے ہیں مگر بت پرستی تو شروع ہی تصور سے ہوتی ہے۔بت پرست بھی بڑھتے بڑھتے ہی اس درجہ تک پہنچا ہے۔پہلے تصور ہی ہو گا پھر یہ سمجھ لیا کہ تصور قائم رکھنے کیلئے بہتر ہے تصویر ہی بنالیں اور پھر اس کو ترقی دیتے دیتے پتھر اور دھاتوں کے بت بنانے شروع کر دیئے اور ان کو تصویر کا قائم مقام بنالیا۔آخر یہاں تک ترقی کی کہ ان کی روحانیت کو اور وسیع کر کے ان کو خدا ہی مان لیا۔اب نرے پتھر ہی رکھ لیتے ہیں اور اقرار کرتے کہ منتر کے ساتھ ان کو درست کر لیتے ہیں اور پر میشر کا حلول ان پتھروں میں ہو جاتا ہے۔اس منتر کا نام انہوں نے اور ہن رکھا ہوا ہے۔میں نے ایک مرتبہ دیکھا کہ میرے ہاتھ میں ایک کاغذ ہے۔میں نے ایک شخص کو دیا کہ اسے پڑھو تو اس نے کہا اس پر اوا ہن لکھا ہوا ہے۔مجھے اس سے کراہت آئی میں نے اسے کہا کہ تو مجھے دکھا جب میں نے پھر ہاتھ میں لے کر دیکھا تو اس پر لکھا ہوا تھا ا ر دُتُ اَنْ اَسْتَخْلِفَ فَخَلَقْتُ ادَمَ - اصل بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کا خلیفہ جو ہوتا ہے ردائے الہی کے نیچے ہوتا ہے۔اسی لئے آدم کیلئے فرمایا