فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 88
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 88 (۱۰۸) تصویر بنوانے کی غرض اعتراض کیا گیا کہ تصویر پر لوگ کہتے ہیں کہ یہ تصور شیخ کی غرض سے بنوائی گئی ہے۔حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا:۔" یہ تو دوسرے کی نیت پر حملہ ہے۔میں نے بہت مرتبہ بیان کیا ہے کہ تصویر سے ہماری غرض کیا تھی۔بات یہ ہے کہ چونکہ ہم کو بلا دیورپ خصوصاً لندن میں تبلیغ کرنی منظور تھی لیکن چونکہ یہ لوگ کسی دعوت یا تبلیغ کی طرف توجہ نہیں کرتے جب تک داعی کے حالات سے واقف نہ ہوں اور اس کیلئے ان کے ہاں علم تصویر میں بڑی بھاری ترقی کی گئی ہے۔وہ کسی شخص کی تصویر اور اس کے خط و خال کو دیکھ کر رائے قائم کر لیتے ہیں کہ اس میں راستبازی ، قوت قدسی کہاں تک ہے؟ اور ایسا ہی بہت سے امور کے متعلق انہیں اپنی رائے قائم کرنے کا موقع مل جاتا ہے پس اصل غرض اور نیت ہماری اس سے یہ تھی جس کو ان لوگوں نے جو خواہ نخواہ ہر بات میں مخالفت کرنا چاہتے ہیں اس کو بُرے بُرے پیرایوں میں پیش کیا اور دنیا کو بہکایا۔میں کہتا ہوں کہ ہماری نیت تو تصویر سے صرف اتنی ہی تھی۔اگر یہ نفس تصویر کو ی برا کجھتے ہیں تو پھر کوئی سکہ اپنے پاس نہ رکھیں۔بلکہ بہتر ہے کہ آنکھیں بھی نکلوادیں کیونکہ ان میں بھی اشیاء کا ایک انعکاس ہی ہوتا ہے۔یہ نادان اتنا نہیں جانتے کہ افعال کی تہہ میں نیت کا بھی دخل ہوتا ہے الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ پڑھتے ہیں مگر سمجھتے نہیں۔بھلا اگر کوئی شخص محض ریا کاری کیلئے نماز پڑھے تو اس کو یہ کوئی مستحسن امر قرار دیں گے؟ سب جانتے ہیں کہ ایسی نماز کا فائدہ کچھ نہیں بلکہ وبال جان ہے تو کیا نماز بُری تھی ؟ نہیں اس کے بد استعمال نے اس کے نتیجہ کو بُرا پیدا کیا۔اسی طرح پر تصویر سے ہماری غرض تو اسلام کی دعوت میں مدد لینا تھا۔جو اہل یورپ کے مذاق پر ہو سکتی تھی اس کو تصور شیخ بنانا اور کچھ سے کچھ کہنا افتراء ہے۔جو مسلمان ہیں ان کو اس پر غصہ نہیں آنا چاہئے تھا جو کچھ خدا اور رسول نے فرمایا ہے وہ حق ہے۔اگر مشائخ کا قول خدا اور رسول کے فرمودہ کے موافق نہیں تو کالائے بد برلیش خاوند۔" الحکم نمبر 39 جلد 5 مؤرخہ 24 اکتوبر 1901 ، صفحہ 2,1)