فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 87
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 87 اس قدر فرق ہوتا ہے کہ پہلے سجدہ کے بعد جب بیٹھتے ہیں تو دونوں ہاتھوں کو دونوں گھٹنوں پر اس طور پر رکھتے ہیں کہ دونوں ہاتھ کھلے ہوتے ہیں اور دونوں کی انگلیاں قبلہ کی طرف سیدھی ہوتی ہیں اور دوسری رکعت کے دونوں سجدوں کے بعد جب بیٹھتے ہیں تو اپنے بائیں ہاتھ کو تو ویسا ہی رکھتے ہیں اور دائیں ہاتھ کی تین انگلیوں کو ہتھیلی سے ملا لیتے ہیں اور درمیانی انگلی اور انگوٹھے سے حلقہ باندھ لیتے ہیں اور ان دونوں کے درمیان کی انگلی کو سیدھا رکھتے ہیں اور پھر التحیات پڑھتے ہیں اور وہ یہ ہے التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَواتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِيْنَ اَشْهَدُ اَنْ لا إِلهَ إِلَّا اللهُ ( اور یہ کہتے ہوئے اس انگلی کو اٹھا کر اشارہ کرتے ہیں اور پھر ویسی ہی رکھ دیتے ہیں جیسی کہ پہلے رکھی ہوئی تھی ) وَاَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ۔پس اگر تین چار رکعتیں پڑھنی ہوتی ہیں تو اس کے بعد اللہ اکبر کہتے ہوئے اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور پھر باقی رکعتوں کو ویسا ہی پڑھتے ہیں جیسا کہ دوسری رکعت کو پڑھا تھا اور پھر ان کو ختم کر کے اخیر میں پھر اسی طریق سے یاد ہنے پاؤں کو کھڑا کر کے اور بائیں پاؤں کو داہنے طرف باہر نکال کر زمین پر بیٹھ جاتے ہیں اور یہی التحیات پڑھتے ہیں۔اور اگر دو ہی رکعت والی نماز ہوئی تو یہی آخری بیٹھنا ہوتا ہے اور آخری بیٹھنے میں التحیات مذکورہ کے بعد پڑھتے ہیں اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَّ عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ اللَّهُمَّ | بَارِک عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ۔اس کے بعد پھر کوئی دعا مقرر نہیں بلکہ جو چاہتے ہیں وہ دعامانگتے ہیں اور ضرور مانگتے ہیں۔اس کے بعد دہنے طرف منہ پھیر کر کہتے ہیں۔اَلسَّلامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ الله اور پھر بائیں طرف بھی اسی طرح منہ پھیر کر کہتے ہیں اَلسَّلامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ الله - پس اللہ اکبر سے نماز شروع ہوتی ہے اور السلام علیکم ورحمتہ اللہ پر ختم ہو جاتی ہے۔یہ وہ نماز ہے جو کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور ان کے اہل علم اور مخلص مہاجر اور رات دن ساتھ رہنے والے اصحاب پڑھتے ہیں۔(رسالہ تعلیم الاسلام جلد 1 نمبر 5 صفحہ 171 و 176 تا 180 مطبوعہ قادیان جولائی 1906ء)