پہلا احمدی مسلمان سائنسدان عبدالسلام — Page 30
نوبیل انعام کا حصول اب تک ڈاکٹر عبدالسلام کو دنیا کے بہترین انعام مل چکے تھے لیکن سب سے بڑا انعام یعنی ” نوبیل پرائز بھی نہیں ملا تھا۔اُن کی خواہش تھی کہ یہ انعام بھی ان کومل جائے کیونکہ اس انعام کا حاصل کرنا اسلام اور پاکستان کے لیے باعث عزت تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تیسرے خلیفہ حضرت مرزا ناصر احمد رحمہ اللہ تعالی 1978ء میں کسرِ صلیب کا نفرنس کے لیے یورپ تشریف لے گئے تو ڈاکٹر عبد السلام نے اپنی اس خواہش کا اظہار کیا اور حضرت صاحب کو دعا کے لیے عرض کی۔آپ نے دعا کی اور آپ کو خدا کی طرف سے بتایا گیا کہ سلام نے اب تک جو تحقیق کی ہے اس پر نوبیل انعام مشکل ہے البتہ اگلے سال تک جو کام وہ کریں گے اس پر انہیں نوبیل انعام مل سکے گا۔اس امر کا ذکر حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے نومبر 1980ء کے آخری ہفتہ میں اسلام آباد اپنے قیام کے دوران ایک روز بعد نماز مغرب وعشاء مجلس عرفان میں فرمایا۔چنانچہ اگلے سال 1979ء میں پروفیسر عبدالسلام صاحب کو دوامریکی سائنسدانوں کے ساتھ فزکس کے بہترین کام پر نوبیل انعام مل گیا۔( " مشرق“ 19 اکتوبر 1979ء) اور یہ حضرت امام جماعت احمدیہ کی دعاؤں اور ڈاکٹر سلام کی محنت کا نتیجہ تھا۔30