پہلا احمدی مسلمان سائنسدان عبدالسلام

by Other Authors

Page ix of 71

پہلا احمدی مسلمان سائنسدان عبدالسلام — Page ix

بسم اللہ الرحمن الرحیم حرف آغاز بچو! ہمارا دین علم حاصل کرنے پر بہت زور دیتا ہے۔ہر علم کی بنیاد قرآن کریم میں موجود ہے اور کوئی بھی ایسا علم نہیں جس کا اصولی اور بنیادی طور پر قرآن کریم میں ذکر موجود نہ ہو۔اسی لئے ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر مسلمان مرد اور عورت کو علم حاصل کرنے کا حکم دیا ہے۔اسلام کے شروع زمانہ میں خدا، رسول اور قرآن سے پیار کرنے والے بے شمار لوگ گذرے ہیں جنھوں نے خدا کی صفات کا علم حاصل کرنے کے لئے ہر قسم کے علوم کو سیکھا، ان کو ترقی دی اور ان کے ذریعے خدا کے بندوں کی خدمت کی۔سائنسی علوم کی ترقی اسلام کی پہلی صدی میں اس وقت شروع ہوئی جب طارق بن زیاد نے 92ھ مطابق 711ء میں سپین کا ملک فتح کیا، اور پین میں اسلامی حکومت قائم ہوئی۔وہ زمانہ مسلمانوں کی حیرت انگیز ترقیات کا زمانہ تھا اس دوران بڑے بڑے لائق مسلمان سائنسدان پیدا ہوئے جنھوں نے اپنی محنت اور خدا کی مدد سے علوم میں کمال حاصل کیا اور ساری دنیا سے اپنے علم کا سکہ منوایا۔ان میں جابر، خوارزمی، رازی، مسعودی، وفا، البیرونی، بوعلی سینا، ابن الہیشم ، این رشد ، طوصی اور ان نفیس وغیرہ کے نام خاص طور پر مشہور ہیں۔مسلمانوں نے متواتر کئی سو سال عملی دنیا کے استاد اور لیڈر بن کر خدا کے بندوں کی بے لوث خدمت کی اور اپنے پیچھے کتابوں کی شکل میں علم کے خزانے چھوڑے جن سے ماہرین آج بھی رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔اس زمانہ میں یورپ کے بڑے بڑے عیسائی سپین کی عرب درس گاہوں سے آکر علوم حاصل کرتے تھے اور اس طرح مسلمانوں کے ذریعے ہی یورپ میں علم و سائنس کا آغاز ہوا۔لیکن جب مسلمانوں پر عارضی کمزوری کا زمانہ آیا اور اُن کے بچوں کے دلوں سے علم کی محبت نکل گئی تو خدا نے علم کی شمع ان سے چھین کر یورپ والوں کے ہاتھوں میں تھمادی۔مسلمان اپنے آباؤ اجداد کے علمی ورثے VI