پہلا احمدی مسلمان سائنسدان عبدالسلام — Page 18
جماعتی و ظائف و اعزازات عبدالسلام کے والد صاحب کی آمدنی بہت تھوڑی تھی اور گھر کے افرادزیادہ تھے تاہم اللہ تعالی سلام کی پڑھائی کے لیے خود انتظام فرما تا رہا۔قابلیت کی بناء پر انہوں نے حضرت خلیفہ المسیح سے بھی وظیفے حاصل کیے۔چنانچہ ان کے والد صاحب بیان کرتے ہیں:۔دسمبر 1939ء میں سر چو ہدری ظفر اللہ خاں رضی اللہ تعالی عنہ نے جماعت احمدیہ میں 25 سال خلافتِ ثانیہ کے گذرنے پر جو بلی فنڈ کی تحریک کی اور تین لاکھ روپیہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی کو پیش کیا۔حضور نے جلسہ سالانہ 1939ء میں اعلان فرمایا کہ نوجوانوں کی ہمت بڑھانے کے لیے اعلان کرتا ہوں کہ جماعت احمدیہ کا جو طالب علم اپنے سکول میں اول آئے گا اسے اس فنڈ سے 30 روپے ماہوار وظیفہ ایف۔اے کے دو سال میں دیا جائے گا۔پھر جو ایف۔اے میں اول آئے گا اسے 45 روپے ماہوار وظیفہ ) بی۔اے کلاسوں میں دیا جائے گا۔ازاں بعد جو بی۔اے میں اول آئے گا اسے ایم۔اے کلاسز میں دو سال 60 روپے ماہوار وظیفہ دیا جائے گا۔ایم۔اے کرنے کے بعد جولڑ کا مغرب کی کسی یو نیورسٹی میں اعلی تعلیم حاصل کرنے کے لیے جائے گا اسے نصف خرچ اس فنڈ سے دیا جائے گا۔“ (سرگذشت) اسی شام ملاقات کے دوران سلام کے والد صاحب نے حضور کو بتایا کہ سلام یہ سب وظیفے لے گا۔چنانچہ ایسے ہی ہوا۔1949 ء میں حضور نے سلام کے خطبہ نکاح کے دوران فرمایا:- 18