فقہ المسیح — Page 33
فقه المسيح 33 33 علم فقہ اور فقہاء صحیحہ کے بر خلاف سمجھا گیا ہے۔مگر اصل حقیقت یہ ہے کہ امام صاحب موصوف اپنی قوت اجتہادی اور اپنے علم اور درایت اور فہم و فراست میں ائمہ ثلاثہ باقیہ سے افضل واعلیٰ تھے اور اُن کی خداداد قوت فیصلہ ایسی بڑھی ہوئی تھی کہ وہ ثبوت عدم ثبوت میں بخوبی فرق کرنا جانتے تھے اور ان کی قوت مدرکہ کو قرآن شریف کے سمجھنے میں ایک خاص دستگاہ تھی اور اُن کی فطرت کو کلام الہی سے ایک خاص مناسبت تھی اور عرفان کے اعلیٰ درجہ تک پہنچ چکے تھے۔اسی وجہ سے اجتہاد واستنباط میں اُن کے لئے وہ درجہ علیا مسلم تھا جس تک پہنچنے سے دوسرے سب لوگ قاصر تھے۔سبحان اللہ اس زیرک اور ربانی امام نے کیسی ایک آیت کے ایک اشارہ کی عزت اعلیٰ وارفع سمجھ کر بہت سی حدیثوں کو جو اس کے مخالف تھیں رڈی کی طرح سمجھ کر چھوڑ دیا اور جہلا کے طعن کا کچھ اندیشہ نہ کیا۔(ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 385) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے ساتھ 1891ء میں ایک مباحثہ ہوا جس کے دوران آپ نے محسوس کیا کہ مولوی محمد حسین صاحب حضرت امام ابو حنیفہ کے بارہ میں استخفاف سے کام لے رہے ہیں اس پر آپ نے فرمایا :۔اے حضرت مولوی صاحب آپ ناراض نہ ہوں آپ صاحبوں کو امام بزرگ ابوحنیفہ سے اگر ایک ذرہ بھی حسن ظن ہوتا تو آپ اس قدر نیکی اور استخفاف کے الفاظ استعمال نہ کرتے آپ کو امام صاحب کی شان معلوم نہیں وہ ایک بحر اعظم تھا اور دوسرے سب اس کی شاخیں ہیں اسکا نام اہل الرائے رکھنا ایک بھاری خیانت ہے! امام بزرگ حضرت ابوحنیفہ کو علاوہ کمالات علم آثار نبویہ کے استخراج مسائل قرآن میں ید طولیٰ تھا خدا تعالیٰ حضرت مجدد الف ثانی پر رحمت کرے انہوں نے مکتوب صفحہ ۳۰۷ میں فرمایا ہے کہ امام اعظم صاحب کی آنیوالے مسیح کے ساتھ استخراج مسائل قرآن میں ایک روحانی مناسبت ہے۔(الحق مباحثہ لدھیانہ۔روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 101)