فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 20 of 611

فقہ المسیح — Page 20

فقه المسيح 20 فقہ احمدیہ کے مآخذ مذہب ہے اور ظن وہ ہے جس کے ساتھ کذب کا احتمال لگا ہوا ہے۔پھر ایمان کی بنیاد محض ظن پر رکھنا اور خدا کے قطعی یقینی کلام کو پس پشت ڈال دینا کونسی عقلمندی اور ایمانداری ہے ہم یہ نہیں کہتے کہ تمام حدیثوں کو رڈی کی طرح پھینک دو بلکہ ہم کہتے ہیں کہ اُن میں سے وہ قبول کرو جو قرآن کے منافی اور معارض نہ ہوں تا ہلاک نہ ہو جاؤ۔اعجاز احمدی۔روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 138 ) اجماع کی تعریف (کتب اصول فقہ کی روشنی میں) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کتب اصول فقہ میں مندرج اجماع کی مختلف تعریفوں کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرمایا:۔الْإِجْمَاعُ إِتِفَاقُ مُجْتَهِدِينَ صَالِحِيْنَ مِنْ أُمَّةٍ مُحَمَّدٍ مُصْطَفَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِى عَصْرٍ وَاحِدٍ وَالْأَوْلَى أَنْ يَكُونَ فِي كُلِّ عَصْرٍ عَلَى اَمْرٍ قَوْلِي اَوْ فِعْلِي۔یعنی اجماع اس اتفاق کا نام ہے جو امت محمدیہ کے مجہتدین صالحین میں زمانہ واحد میں پیدا ہو اور بہتر تو یہ ہے کہ ہر زمانہ میں پایا جائے اور جس امر پر اتفاق ہو برابر ہے کہ وہ امر قولی ہو یا فعلی۔اور اجماع کی دو نوع ہیں ایک وہ ہے جس کو عزیمت کہتے ہیں اور عزیمت اس بات کا نام ہے کہ اجماع کر نیوالے صریح تکلم سے اپنے اجماع کا اقرار کریں کہ ہم اس قول یا فعل پر متفق ہو گئے۔لیکن فعل میں شرط ہے کہ اس فعل کا کرنا بھی وہ شروع کر دیں۔دوسری نوع اجماع کی وہ ہے جس کو رخصت کہتے ہیں اور وہ اس بات کا نام ہے کہ اگر اجماع کسی قول پر ہے تو بعض اپنے اتفاق کو زبان سے ظاہر کریں اور بعض چپ رہیں اور اگر اجماع کسی فعل پر ہے تو بعض اسی فعل کا کرنا شروع کر دیں اور بعض فعلی مخالفت سے دستکش