فقہ المسیح — Page 18
فقه المسيح 18 فقہ احمدیہ کے مآخذ درجہ پر ہیں مثلاً رفع یدین یا عدم رفع یدین جود و طور کا تعامل چلا آتا ہے ان دونوں طوروں سے جو تعامل قرن اول سے آج تک کثرت سے پایا جاتا ہے اس کا درجہ زیادہ ہوگا اور با ایں ہمہ دوسرے کو بدعت نہیں ٹھہرائیں گے بلکہ ان دونوں عملوں کی تطبیق کی غرض سے یہ خیال ہوگا کہ باوجود مسلسل تعامل کے پھر اس اختلاف کا پایا جانا اس بات پر دلیل ہے کہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہفت قراءت کی طرح طرق ادائے صلوٰۃ میں رفع تکلیف امت کیلئے وسعت دیدی ہوگی اور اس اختلاف کو خود دانستہ رخصت میں داخل کر دیا ہوگا تا امت پر حرج نہ ہو۔غرض اس میں کون شک کر سکتا ہے کہ سلسلۂ تعامل سے احادیث نبویہ کو قوت پہنچتی ہے اور سنتِ متوارثہ متعاملہ کا اُن کو لقب ملتا ہے۔سنن متوارثه متعامله الحق مباحثہ لدھیانہ۔روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 87) سلسلۂ تعامل کی حدیثیں یعنی سفن متوارثہ متعاملہ جو عاملین اور آمرین کے زیر نظر چلی آئی ہیں اور علی قدر مراتب تاکید مسلمانوں کی عملیات دین میں قرنا بعد قرن وعصر أبعد عصر داخل رہی ہیں وہ ہرگز میری آویزش کا مورد نہیں اور نہ قرآن کریم کو ان کا معیار ٹھہرانے کی ضرورت ہے اور اگر ان کے ذریعہ سے کچھ زیادت تعلیم قرآن پر ہو تو اس سے مجھے انکار نہیں۔ہر چند میرا مذہب یہی ہے کہ قرآن اپنی تعلیم میں کامل ہے اور کوئی صداقت اس سے باہر نہیں۔الحق مباحثہ لدھیانہ۔روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 81،80) کیا بخاری اور مسلم کے صحیح ہونے پر اجماع ہو چکا ہے! آپ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ بخاری اور مسلم کے صحیح ہونے پر اجماع ہو چکا ہے! اب ان کو بہر حال آنکھیں بند کر کے صحیح مان لینا چاہئے! لیکن میں سمجھ نہیں سکتا کہ یہ اجماع کن لوگوں نے کیا ہے اور کس وجہ سے واجب اعمل ہو گیا ہے؟ دنیا میں حنفی لوگ پندرہ کروڑ کے قریب