فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 17 of 611

فقہ المسیح — Page 17

فقه المسيح 17 فقہ احمدیہ کے مآخذ مراتب صحت میں تمام حدیثیں یکساں نہیں ہیں جس قدر حدیثیں تعامل کے سلسلہ سے فیض یاب ہیں وہ حسب استفاضہ اور بقدر اپنی فیضیابی کے یقین کے درجہ تک پہنچ گئی ہیں لیکن باقی حدیثیں ظن کے مرتبہ سے زیادہ نہیں۔غایت کار بعض حدیثیں ظن غالب کے مرتبہ تک ہیں۔اس لئے میرا مذ ہب بخاری اور مسلم وغیرہ کتب حدیث کی نسبت یہی ہے جو میں نے بیان کر دیا ہے یعنی مراتب صحت میں یہ تمام حدیثیں یکساں نہیں ہیں۔بعض بوجہ تعلق سلسلہ تعامل یقین کی حد تک پہنچ گئی ہیں اور بعض بباعث محروم رہنے کے اس تعلق سے ظن کی حالت میں ہیں۔لیکن اس حالت میں میں حدیث کو جب تک قرآن کے صریح مخالف نہ ہو موضوع قرار نہیں دے سکتا۔اور میں سچے دل سے اس بات کی شہادت دیتا ہوں کہ حدیثوں کے پر کھنے کیلئے قرآن کریم سے بڑھ کر اور کوئی معیار ہمارے پاس نہیں۔تعامل حجت قوی ہے! الحق مباحثہ لدھیانہ۔روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 36،35 ) میری غرض تو صرف اس قدر ہے کہ حدیث کو قرآن کریم سے مطابق ہونا چاہئے ، ہاں اگر سلسلہ تعامل کے رو سے کسی حدیث کا مضمون قرآن کے کسی خاص حکم سے بظاہر منافی معلوم ہو تو اس کو بھی تسلیم کر سکتا ہوں کیونکہ سلسلہ تعامل حجت قوی ہے۔تعامل کے درجے الحق مباحثہ لدھیانہ۔روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 42) تعامل کے متعلق جو احکام ہیں وہ سب ثبوت کے لحاظ سے ایک درجہ پر نہیں جن امور کی مواظبت اور مداومت بلافتور واختلاف چلی آئی ہے وہ اول درجہ پر ہیں اور جس قدر احکام اپنے ساتھ اختلاف لے کر تعامل کے دائرہ میں داخل ہوئے ہیں وہ بحسب اختلاف اس پہلے نمبر سے کم