فقہ المسیح — Page 11
فقه المسيح 11 فقہ احمدیہ کے مآخذ یہ خیال کر لیا گیا ہے کہ علاوہ اس خاص تحقیق کے جو تنقید احادیث میں ائمہ حدیث نے کی ہے۔وہ حدیثیں قرآن کریم کی کسی آیہ محکمہ اور بینہ سے منافی اور متغائر نہیں ہیں اور نیز اکثر احادیث جو احکام شرعی کے متعلق ہیں تعامل کے سلسلہ سے قطعیت اور یقین تام کے درجہ تک پہنچ گئی ہیں۔ورنہ اگر ان دونوں وجوہ سے قطع نظر کی جائے تو پھر کوئی وجہ ان کے یقینی الثبوت ہونے کی معلوم نہیں ہوتی۔الحق مباحثہ لدھیانہ۔روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 19،18) کیا بخاری اور مسلم کی احادیث پر اجماع ہو جانے کی دلیل قابل قبول ہے حضرت مسیح موعود نے یہ ذکر کرنے کے بعد کہ بخاری اور مسلم کی احادیث کے یقینی الثبوت ہونے کی ایک یہ وجہ پیش کی جائے گی کہ اس پر اجماع ہو گیا ہے اس کا جواب دیتے ہوئے آپ نے فرمایا ” آپ ہی ریویو براہین احمدیہ کے صفحہ ۳۳۰ میں اجماع کی نسبت لکھ چکے ہیں کہ اجماع اتفاقی دلیل نہیں ہے“ چنانچہ آپ فرماتے ہیں کہ :۔اجماع میں اولاً یہ اختلاف ہے کہ یہ ممکن یعنی ہو بھی سکتا ہے یا نہیں بعضے اس کے امکان کو ہی نہیں مانتے۔پھر ماننے والوں کا اس میں اختلاف ہے کہ اس کا علم ہوسکتا ہے یا نہیں۔ایک جماعت امکان علم کے بھی منکر ہیں۔امام فخر الدین رازی نے کتاب محصول میں یہ اختلاف بیان کر کے فرمایا ہے کہ انصاف یہی ہے کہ بجز اجماع زمانہ صحابہ جب کہ مومنین اہل اجماع بہت تھوڑے تھے اور ان سب کی معرفت تفصیلی ممکن تھی اور زمانہ کے اجماعوں کے حصول علم کی کوئی سبیل نہیں۔اسی کے مطابق کتاب حصول المامول میں ہے جو کتاب ارشاد الفحول شوکانی سے ملخص ہے اس میں کہا۔”جو یہ دعویٰ کرے کہ ناقل اجماع ان سب علماء دنیا کی جو اجماع میں معتبر ہیں معرفت پر قادر ہے وہ اس دعوی میں حد سے نکل گیا اور جو کچھ اس نے کہا انکل سے کہا۔خدا امام احمد حنبل پر رحم کرے کہ انہوں نے صاف فرما دیا ہے کہ جو دعویٰ اجماع کا مدعی ہے وہ جھوٹا ہے۔فقط۔