فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 554 of 611

فقہ المسیح — Page 554

فقه المسيح 554 جلسہ سالانہ کا انعقاد ضلالت کے وقت اور عیسائیت اور فلسفہ کے غلبہ میں اس نے ظہور کیا اور بتلایا کہ میں امام وقت ہوں اور آپ لوگ اس کے منکر ہو گئے اور اس کا نام کافر اور دجال رکھا اور اپنے بد خاتمہ سے ذرا خوف نہ کیا اور جاہلیت پر مرنا پسند کیا ۔ اللہ تعالیٰ نے ہدایت کی تھی کہ تم پنجوقت نمازوں میں یہ دعا پڑھا کرو کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِم اے ہمارے خدا اپنے اپنے منعم علیہم بندوں کی ہمیں راہ بتا۔ وہ کون ہیں ۔ نبی اور صدیق اور شہید اور صلحاء۔ اس دُعا کا خلاصہ مطلب یہی تھا کہ ان چاروں گروہوں میں سے جس کا زمانہ تم پاؤ اس کے سایۂ صحبت میں آجاؤ اور اس سے فیض حاصل کرو۔ لیکن اس زمانہ کے مولویوں نے اس آیت پر خوب عمل کیا۔ آفرین آفرین میں ان کو کس سے تشبیہ دوں ۔ وہ اس اندھے سے مشابہ ہیں جو دوسروں کی آنکھوں کا علاج کرنے کے لئے بہت زور کے ساتھ لاف و گزاف مارتا ہے اور اپنی نابینائی سے غافل ہے۔ بالآخر میں یہ بھی ظاہر کرتا ہوں کہ اگر مولوی رحیم بخش صاحب اب بھی اس فتوی سے رجوع نہ کریں تو میں ان کو اللہ جل شانہ کی قسم دیتا ہوں کہ اگر وہ طالب حق ہیں تو اس بات کے تصفیہ کے لئے میرے پاس قادیان میں آجائیں میں ان کی آمد ورفت کا خرچ دے دوں گا اور ان پر کتا بیں کھول کر اور قرآن اور حدیث دکھلا کر ثابت کر دوں گا کہ یہ فتویٰ ان کا سراسر باطل اور شیطانی اغوا سے ہے۔ والسلام على من اتبع الهدى ۔ 17 دسمبر 1892ء خاکسار غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور مطبوعہ ریاض ہند ( آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 605 تا 612)