فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 3 of 611

فقہ المسیح — Page 3

فقه المسيح 3 فقہ احمدیہ کے مآخذ (3) تیسرا ذریعہ ہدایت کا حدیث ہے کیونکہ بہت سے اسلام کے تاریخی اور اخلاقی اور فقہ کے امور کو حدیثیں کھول کر بیان کرتی ہیں اور نیز بڑا فائدہ حدیث کا یہ ہے کہ وہ قرآن کی خادم اور سنت کی خادم ہے۔کشتی نوح - روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 61) سنت اور حدیث میں مابہ الامتیاز یہ ہے کہ سنت ایک عملی طریق ہے جو اپنے ساتھ تو اتر رکھتا ہے جس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے جاری کیا اور وہ یقینی مراتب میں قرآن شریف سے دوسرے درجہ پر ہے اور جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قرآن شریف کی اشاعت کے لئے مامور تھے ایسا ہی سُنّت کی اقامت کے لئے بھی مامور تھے۔پس جیسا کہ قرآن شریف یقینی ہے ایسا ہی سُنّتِ معمولہ متواترہ بھی یقینی ہے۔یہ دونوں خدمات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ سے بجالائے اور دونوں کو اپنا فرض سمجھا۔مثلاً جب نماز کے لئے حکم ہوا تو آنحضرت نے خدا تعالیٰ کے اس قول کو اپنے فعل سے کھول کر دکھلا دیا اور عملی رنگ میں ظاہر کر دیا کہ فجر کی نماز کی یہ رکعات ہیں اور مغرب کی یہ اور باقی نمازوں کے لئے یہ یہ رکعات ہیں۔ایسا ہی حج کر کے دکھایا اور پھر اپنے ہاتھ سے ہزار ہا صحابہ کو اس فعل کا پابند کر کے سلسلہ تعامل بڑے زور سے قائم کر دیا۔پس عملی نمونہ جواب تک اُمت میں تعامل کے رنگ میں مشہود و محسوس ہے اسی کا نام سنت ہے۔لیکن حدیث کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رو برو نہیں لکھوایا اور نہ اس کے جمع کرنے کیلئے کوئی اہتمام کیا۔۔۔۔۔پھر جب وہ دور صحابہ رضی اللہ عنہم کا گذر گیا تو بعض تبع تابعین کی طبیعت کو خدا نے اس طرف پھیر دیا کہ حدیثوں کو بھی جمع کر لینا چاہئے تب حدیثیں جمع ہوئیں۔اس میں شک نہیں ہوسکتا کہ اکثر حدیثوں کے جمع کرنے والے بڑے متقی اور پر ہیز گار تھے انہوں نے جہاں تک اُن کی طاقت میں تھا حدیثوں