فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 541 of 611

فقہ المسیح — Page 541

فقه المسيح 541 جلسہ سالانہ کا انعقاد جلسہ سالانہ کا انعقاد خالص دینی مقاصد پر مشتمل ہے جلسہ سالانہ کو بدعت قرار دیئے جانے کے اعتراض کا جواب اس زمانہ کے علماء کی حالت قرب قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ایک بڑی نشانی ہے جو اس حدیث سے معلوم ہوتی ہے جو امام بخاری اپنی صحیح میں عبد اللہ بن عمرو بن العاص سے لائے ہیں اور وہ یہ ہے۔يُقْبَضُ الْعِلْمُ بِقَبْضِ الْعُلَمَاءِ حَتَّى إِذَا لَمْ يَبْقَ عَالِمٌ إِتَّخَذَ النَّاسُ رُوسًا جُهَّالًا فَسَتَلُوا فَافْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ فَصَلُّوْا وَ اَضَلُّوا يعنی باعث فوت ہو جانے علماء کے علم فوت ہو جائے گا یہاں تک کہ جب کوئی عالم نہیں ملے گا تو لوگ جاہلوں کو اپنا مقتداء اور سردار قرار دے دیں گے اور مسائل دینی کی دریافت کے لئے ان کی طرف رجوع کریں گے۔تب وہ لوگ بباعث جہالت اور عدم ملکہ استنباط مسائل خلاف طریق صدق وصواب فتویٰ دیں گے۔پس آپ بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔اور پھر ایک اور حدیث میں ہے کہ اس زمانہ کے فتویٰ دینے والے یعنی مولوی اور محدث اور فقیہ ان تمام لوگوں سے بدتر ہوں گے جو روئے زمین پر رہتے ہوں گے۔پھر ایک اور حدیث میں ہے کہ وہ قرآن پڑھیں گے اور قرآن اُن کے حنجروں کے نیچے نہیں اترے گا یعنی اس پر عمل نہیں کریں گے۔ایسا ہی اس زمانہ کے مولویوں کے حق میں اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں مگر اس وقت ہم بطور نمونہ صرف اس حدیث کا ثبوت دیتے ہیں جو غلط فتووں کے بارے میں ہم اُوپر لکھے چکے ہیں تا ہر ایک کو معلوم ہو کہ آجکل اگر مولویوں کے وجود سے کچھ فائدہ ہے تو صرف اس قدر کہ ان کے یہ پچھن دیکھ کر قیامت یاد آتی ہے اور قرب قیامت کا پتہ لگتا ہے اور حضرت خاتم الانبیاء صلے اللہ علیہ وسلم کی ایک پیشگوئی کی پوری پوری تصدیق ہم بچشم خود مشاہدہ کرتے ہیں۔“