فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 530 of 611

فقہ المسیح — Page 530

فقه المسيح 530 جہاد کی حقیقت گٹھڑی کی طرح بندھے ہوئے تھے جن کے جو ہر مخفی تھے ہم نے مسیح کے زمانہ میں وہ دونوں گٹھڑیاں کھول دیں اور دونوں کے جو ہر ظاہر کر دیئے۔( حاشیہ: کیا یہ سچ نہیں کہ اس زمانہ میں زمین کی گٹھڑی ایسی کھلی ہے کہ ہزار ہانٹی حقیقتیں اور خواص اور کلیں ظاہر ہوتی جاتی ہیں۔پھر آسمانی گٹھڑی کیوں بند رہے۔آسمانی گٹھڑی کی نسبت گذشتہ نبیوں نے بھی پیشگوئی کی تھی کہ بچے اور عورتیں بھی خدا کا الہام پائیں گی اور وہ مسیح موعود کا زمانہ ہوگا۔منہ ) مسلمان حکمران علماء کے ذریعہ اپنے عوام کو سمجھائیں بالآخر یادر ہے کہ اگر چہ ہم نے اس اشتہار میں مفصل طور پر لکھ دیا ہے کہ یہ موجودہ طریق غیر مذہب کے لوگوں پر حملہ کرنے کا جو مسلمانوں میں پایا جاتا ہے جس کا نام وہ جہاد ر کھتے ہیں یہ شرعی جہاد نہیں ہے بلکہ صریح خدا اور رسول کے حکم کے مخالف اور سخت معصیت ہے لیکن چونکہ اس طریق پر پابند ہونے کی بعض اسلامی قوموں میں پرانی عادت ہوگئی ہے اس لئے اُن کے لئے اس عادت کو چھوڑ نا آسانی سے ممکن نہیں بلکہ ممکن ہے کہ جو شخص ایسی نصیحت کرے اسی کے دشمن جانی ہو جائیں اور غازیانہ جوش سے اُس کا قصہ بھی تمام کرنا چاہیں ہاں ایک طریق میرے دل میں گذرتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر امیر صاحب والی کا بل جن کا رعب افغانوں کی قوموں پر اس قدر ہے کہ شاید اس کی نظیر کسی پہلے افغانی امیر میں نہیں ملے گی نامی علماء کو جمع کر کے اس مسئلہ جہاد کو معرض بحث میں لاویں اور پھر علماء کے ذریعہ سے عوام کو اُن کی غلطیوں پر متنبہ کریں بلکہ اس ملک کے علماء سے چند رسالے پشتو زبان میں تالیف کرا کر عام طور پر شائع کرائیں تو یقین ہے کہ اس قسم کی کاروائی کا لوگوں پر بہت اثر پڑے گا اور وہ جوش جو نادان ملا عوام میں پھیلاتے ہیں رفتہ رفتہ کم ہو جائے گا اور یقیناً امیر صاحب کی رعایا کی بڑی بدقسمتی ہوگی اگر اس ضروری اصلاح کی طرف امیر