فقہ المسیح — Page 529
فقه المسيح 529 جہاد کی حقیقت بوٹ اور ڈاک اور تمام اسباب سہولت تبلیغ اور سہولت سفر مسیح کے زمانہ کی ایک خاص علامت ہے جس کو اکثر نبیوں نے ذکر کیا ہے۔اور قرآن بھی کہتا ہے وَإِذَا الْعِشَارُ عُظَلَتْ (التـكـويـر :5) یعنی عام دعوت کا زمانہ جو مسیح موعود کا زمانہ * ہے۔( حاشیہ: میں بار بارلکھ چکا ہوں کہ مسیح موعود اسرئیلی نبی نہیں ہے بلکہ اس کی خو اور طبیعت پر آیا ہے جبکہ توریت میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مثیل موسیٰ قرار دیا گیا ہے تو ضرور تھا کہ موسوی سلسلہ کی مانند محمدی سلسلہ کے اخیر پر بھی ایک مسیح ہو۔منہ ) وہ ہے جب کہ اونٹ بے کا ر ہو جائیں گے یعنی کوئی ایسی نئی سواری پیدا ہو جائے گی جو اونٹوں کی حاجت نہیں پڑے گی اور حدیث میں بھی ہے کہ يُتْرَكُ الْقِلَاصُ فَلَا يُسْعَى عَلَيْهَا یعنی اس زمانہ میں اونٹ بے کا ر ہو جائیں گے اور یہ علامت کسی اور نبی کے زمانہ کو نہیں دی گئی۔سوشکر کرو کہ آسمان پر نور پھیلانے کے لئے طیاریاں ہیں۔زمین میں زمینی برکات کا ایک جوش ہے یعنی سفر اور حضر میں اور ہر ایک بات میں وہ آرام تم دیکھ رہے ہو جو تمہارے باپ دادوں نے نہیں دیکھے گویا دنیا نئی ہوگئی بے بہار کے میوے ایک ہی وقت میں مل سکتے ہیں۔چھ مہینے کا سفر چند روز میں ہو سکتا ہے۔ہزاروں کوسوں کی خبر میں ایک ساعت میں آسکتی ہیں ہر ایک کام کی سہولت کے لئے مشینیں اور کلیں موجود ہیں۔اگر چاہو تو ریل میں یوں سفر کر سکتے ہو جیسے گھر کے ایک بستان سرائے میں۔پس کیا زمین پر ایک انقلاب نہیں آیا؟ پس جبکہ زمین میں ایک انجو بہ نما انقلاب پیدا ہو گیا اس لئے خدائے قادر چاہتا ہے کہ آسمان میں بھی ایک اعجوبہ نما انقلاب پیدا ہو جائے اور یہ دونوں مسیح کے زمانہ کی نشانیاں ہیں۔انہی نشانیوں کی طرف اشارہ ہے جو میری کتاب براہین احمدیہ کے ایک الہام میں جو آج سے بیس برس پہلے لکھا گیا پائی جاتی ہیں اور وہ یہ ہے اَنَّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَهُمَا یعنی زمین اور آسمان دونوں ایک