فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 520 of 611

فقہ المسیح — Page 520

فقه المسيح 520 جہاد کی حقیقت اب جہاد کیوں حرام ہو گیا ؟ وو یہ خیال اُن کا ہر گز صحیح نہیں ہے کہ جب پہلے زمانہ میں جہادروارکھا گیا ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ اب حرام ہو جائے۔اس کے ہمارے پاس دو جواب ہیں۔ایک یہ کہ یہ خیال قیاس مع الفارق ہے اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہرگز کسی پر تلوار نہیں اٹھائی بجزان لوگوں کے جنہوں نے پہلے تلوار اٹھائی اور سخت بے رحمی سے بے گناہ اور پر ہیز گار مردوں اور عورتوں اور بچوں کو قتل کیا اور ایسے دردانگیز طریقوں سے مارا کہ اب بھی ان قصوں کو پڑھ کر رونا آتا ہے۔دوسرے یہ کہ اگر فرض بھی کر لیں کہ اسلام میں ایسا ہی جہاد تھا جیسا کہ ان مولویوں کا خیال ہے تا ہم اس زمانہ میں وہ حکم قائم نہیں رہا کیونکہ لکھا ہے کہ جب مسیح موعود ظاہر ہو جائے گا تو سیفی جہاد اور مذہبی جنگوں کا خاتمہ ہو جائے گا کیونکہ مسیح نہ تلوار اٹھائے گا اور نہ کوئی اور زمینی ہتھیار ہاتھ میں پکڑے گا بلکہ اُس کی دعا اُس کا حربہ ہوگا اور اُس کی عقد ہمت اُس کی تلوار ہوگی وہ صلح کی بنیاد ڈالے گا اور بکری اور شیر کو ایک ہی گھاٹ پر اکٹھے کرے گا اور اس کا زمانہ صلح اور نرمی اور انسانی ہمدردی کا زمانہ ہوگا۔ہائے افسوس کیوں یہ لوگ غور نہیں کرتے کہ تیرہ سو برس ہوئے کہ مسیح موعود کی شان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے کلمہ يَضَعُ الحَرب جاری ہو چکا ہے جس کے یہ معنے ہیں کہ مسیح موعود جب آئے گا تو لڑائیوں کا خاتمہ کر دے گا۔اور اسی کی طرف اشارہ اس قرآنی آیت کا ہے حَتَّى تَضَعَ الْحَرْبُ اَوْزَارَهَا (محمد:5) یعنی اس وقت تک لڑائی کرو جب تک کہ مسیح کا وقت آ جائے۔یہی تضعَ الحَرْبُ اَوْزَارَهَا ہے۔دیکھو صیح بخاری موجود ہے جو قرآن شریف کے بعد اصحُ الكُتُب مانی گئی ہے۔اس کو غور سے پڑھو۔اے اسلام کے عالمو اور مولویو! میری بات سنو ! میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اب جہاد کا وقت نہیں ہے خدا کے پاک نبی کے نافرمان مت بنو مسیح موعود جو آنے والا تھا آپکا اور اُس نے حکم بھی