فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 496 of 611

فقہ المسیح — Page 496

فقه المسيح 496 متفرق قینچی سے کتروا دیا کرتے تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ آنحضور ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ مسلمان داڑھی کو بڑھائیں اور مونچھوں کو چھوٹا کریں۔جس کی یہ وجہ ہے کہ داڑھی مردانہ زینت اور وقار کا موجب ہے اور مونچھوں کا بڑھانا نجب اور تکبر پیدا کرتا ہے۔لیکن اس کا یہ منشاء نہیں کہ داڑھی کی کوئی خاص مقدار شریعت نے مقرر کر دی ہے۔اس قسم کی جزئی باتوں میں شریعت دخل نہیں دیتی بلکہ شخصی مناسبت اور پسندیدگی پر چھوڑ دیتی ہے۔منشاء صرف یہ ہے کہ داڑھی منڈوائی نہ جائے بلکہ رکھی جاوے۔لیکن داڑھی کا بہت زیادہ لمبا کرنا بھی پسند نہیں کیا گیا۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ ایک مشت و دو انگشت کے اندازہ سے زیادہ بڑھی ہوئی داڑھی کر وا دینی مناسب ہے۔جس کی وجہ غالبا یہ ہے کہ بہت لمبی داڑھی بھی خلاف زینت ہوتی ہے۔اور اس کا صاف رکھنا بھی کچھ دقت طلب ہے۔مگر اس کے مقابلہ میں داڑھی کو ایسا چھوٹا کتروانا بھی کہ وہ منڈھی ہوئی کے قریب قریب ہو جاوے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے احترام کے خلاف ہے جو ایک مخلص مسلمان کی شان سے بعید سمجھا جانا چاہیے۔داڑھی کیسی ہو؟ (سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 339 340) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک شخص محمد سعید صاحب عرب تھے ، اور وہ داڑھی منڈوایا کرتے تھے۔جب وہ قادیان میں زیادہ عرصہ رہے تو لوگوں نے انہیں داڑھی رکھنے کے لئے مجبور کیا۔آخر انہوں نے داڑھی رکھ لی۔ایک دفعہ میرے سامنے عرب صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں عرض کی کہ حضور میری داڑھی دیکھیں ٹھیک ہے۔فرمایا اچھی ہے اور پہلے کیسی تھی۔گویا آپ کو یہ خیال ہی نہ تھا کہ پہلے یہ داڑھی منڈایا کرتے تھے۔(سیرت المہدی جلد 2 صفحہ 82