فقہ المسیح — Page 495
فقه المسيح 495 متفرق حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب کا تبرک حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ مولوی عبد اللطیف صاحب شہید کی شہادت کے بعد ان کا کوئی مرید ان کے کچھ بال حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس قادیان لایا۔آپ نے وہ بال ایک کھلے منہ کی چھوٹی بوتل میں ڈال کر اور اس کے اندر کچھ مشک رکھ کر اس بوتل کو سر بمہر کر دیا اور پھر اس شیشی میں تا گہ باندھ کر اسے اپنی بیت الدعا کی ایک کھونٹی سے لٹکا دیا اور یہ سارا عمل آپ نے ایسے طور پر کیا کہ گویا ان بالوں کو آپ ایک تبرک خیال فرماتے تھے اور نیز بیت الدعا میں اس غرض سے لٹکائے گئے ہوں گے کہ دعا کی تحریک رہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ بوتل کئی سال تک بیت الدعا میں لٹکی رہی۔لیکن اب ایک عرصہ سے نظر نہیں آتی۔(سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 339) داڑھی رکھنا انبیاء کا طریق ہے (ایک مہمان ) عرب صاحب نے داڑھی کی نسبت دریافت کیا۔حضرت اقدس نے فرمایا:۔یہ انسان کے دل کا خیال ہے بعض انگریز تو داڑھی اور مونچھ سب منڈوا دیتے ہیں وہ اسے خوبصورتی خیال کرتے ہیں اور ہمیں اس سے ایسی سخت کراہت آتی ہے کہ سامنے ہو تو کھانا کھانے کو جی نہیں چاہتا۔داڑھی کا جو طریق انبیاء اور راستبازوں نے اختیار کیا ہے وہ بہت پسندیدہ ہے۔البتہ اگر بہت لمبی ہو جاوے تو کٹوا دینی چاہیے۔ایک مشت رہے۔خدا نے یہ ایک امتیاز مرد اور عورت کے درمیان رکھ دیا ہے۔داڑھی تراشنے کا جواز البدر 6 فروری 1903 ء صفحہ 21) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی ریش مبارک کے زیادہ بڑھے ہوئے بالوں کو