فقہ المسیح — Page 494
فقه المسيح 494 متفرق حضرت مسیح موعود کا تبرک دینا حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی کے آخری زمانہ میں اکثر دفعہ احباب آپ کے لئے نیا کرتہ بنوا لاتے تھے اور اسے بطور نذر پیش کر کے تبرک کے طور پر حضور کا اترا ہوا کرتہ مانگ لیتے تھے۔اسی طرح ایک دفعہ کسی نے میرے ہاتھ ایک نیا کر یہ بھجوا کر پرانے اترے ہوئے کرتے کی درخواست کی۔گھر میں تلاش سے معلوم ہوا کہ اس وقت کوئی اُترا ہوا بے دھلا کر تہ موجود نہیں۔جس پر آپ نے اپنا مستعمل کرتہ دھوبی کے ہاں کا دھلا ہوا دیئے جانے کا حکم فرمایا۔میں نے عرض کیا کہ یہ تو دھوبی کے ہاں کا دھلا ہوا کرتہ ہے اور وہ شخص تبرک کے طور پر میلا کر نہ لے جانا چاہتا ہے۔حضور ہنس کر فرمانے لگے کہ وہ بھی کیا برکت ہے جو دھوبی کے ہاں دھلنے سے جاتی رہے۔چنانچہ وہ کر تہ اس شخص کو دے دیا گیا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ وہ شخص غالبا یہ تو جانتا ہوگا کہ دھوبی کے ہاں دھلنے سے برکت جاتی نہیں رہتی۔لیکن محبت کا یہ بھی تقاضا ہوتا ہے کہ انسان اپنے مقدس محبوب کا اُتر ا ہوا میلا بے ڈھلا کپڑا اپنے پاس رکھنے کی خواہش کرتا ہے اور اسی طبعی خواہش کا احترام کرتے ہوئے گھر میں پہلے میلے کپڑے کی تلاش کی گئی لیکن جب وہ نہ ملا تو دُھلا ہوا کر نہ دے دیا گیا۔(سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 344،343) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ ہم سے قاضی امیرحسین صاحب نے بیان کیا کہ میں حدیث میں یہ پڑھتا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بال صحابہ برکت کے لئے رکھتے تھے اس خیال سے میں نے ایک دن حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عرض کیا کہ حضور مجھے اپنے کچھ بال عنایت فرماویں۔چنانچہ جب آپ نے حجامت کرائی تو مجھے اپنے بال بھجوا دیئے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ میرے پاس بھی حضرت صاحب کے کچھ بال رکھے ہیں۔(سیرت المہدی جلد 1 صفحه 21