فقہ المسیح — Page 493
فقه المسيح 493 متفرق کرنا جائز ہے اور اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ چونکہ آپ کی روحانیت زندہ ہے اور آپ اپنی امت کے واسطے سے بھی زندہ ہیں۔اس لئے آپ کے لئے خطاب کے رنگ میں دعا کرنا جائز ہے۔بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تو اپنے ایک شعر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مخاطب ہو کر آپ سے مدد اور نصرت بھی چاہی ہے۔چنانچہ فرماتے ہیں:۔اے سید الوری ! مد دے وقت نصرت است یعنی اے رسول اللہ ! آپ کی امت پر ایک نازک گھڑی آئی ہوئی ہے۔میری مدد کو تشریف لائیے کہ یہ نصرت کا وقت ہے۔ہر نو مسلم کے نام کی تبدیلی ضروری نہیں (سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 553 ، 554) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ میر شفیع احمد صاحب دہلوی نے مجھے سے بذریعہ خط بیان کیا کہ ایک دفعہ ایک معزز احمدی کو سر پر تول چندر چھڑ جی بنگالی کا ایک رشتہ دار گاڑی میں مل گیا اور اسے انہوں نے تبلیغ کی اور وہ بہت متاثر ہوا اور ان کے ساتھ قادیان چلا آیا اور یہاں آکر مسلمان ہو گیا۔نام کی تبدیلی کے متعلق کسی نے عرض کیا تو حضور نے فرمایا کہ ان کا اپنا نام بھی اچھا ہے بس نام کے ساتھ احمد زیادہ کر دوں کسی اور تبدیلی کی ضرورت نہیں۔لوگوں نے اس کے بنگالی طرز کے بال کتروا دیئے۔جسے دیکھ کر حضور نے فرمایا کہ بال کیوں کتروا دیئے؟ پہلے بال بھی اچھے تھے بلکہ اب خراب ہو گئے ہیں۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ کسی نے اس کے بال ایسے رنگ میں کتر وادیئے ہوں گے جو قریبا منڈے ہوئے کے برابر ہوں اور ایسی طرز کے بال حضرت صاحب پسند نہیں فرماتے تھے بلکہ سر کے بال منڈانے کے متعلق فرمایا کرتے تھے کہ یہ خارجیوں کا طریق ہے۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ اسلام لانے کے وقت نام بدلنا ضروری نہیں ہوتا ہاں البتہ اگر مشر کا نہ نام ہو تو وہ ضرور بدل دینا چاہئے۔(سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 436،435)