فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page lv of 611

فقہ المسیح — Page lv

حرف آغاز " 66 کچھ کے بارہ میں کچھ فقه المسيح “ کے بارے میں سید نا حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے حکم عدل اور مامور زمانہ بنا کر بھیجا اور آپ کے سپر دعظیم دینی مہمات کی گئیں۔آپ کا مقام ایک عام مفتی کا مقام نہیں تھا بلکہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے زمانے کی اصلاح کے لئے بھیجا تھا۔مرورِ زمانہ سے اور فقہی مسالک کی کثرت اور باہمی تنازعات کی وجہ سے مسلمان جہاں جہاں راہِ سداد سے ہٹ چکے تھے حضور نے اللہ تعالیٰ سے رہنمائی پاکر اُن کو دوبارہ انہی اصولوں پر قائم کرنے کی کوشش کی جو شریعت حقہ کا مقصود ہے۔آپ نے قرآن شریف ، سنت اور تعامل نیز حدیث کا حقیقی مرتبہ واضح کرتے ہوئے تمام معاملات کا اصل مرجع قرآن کریم کو ٹھہرایا اور فروعی معاملات میں اختلافات کو زیادہ ہوا نہ دینے کی تلقین فرمائی۔بعض مسائل میں آپ نے ایک طریق کو اولیت دی مگر دوسرے رائج طریقوں کو بھی رڈ نہ فرمایا کیونکہ آپ کے فقہی انداز میں وسعت تھی اسی لئے آپ نے امتِ مسلمہ کے تعامل کو بہت اہمیت دی۔حضور علیہ السلام کی زندگی میں یہ دستور تھا کہ باہر سے آنے والے مہمان آپ کی مجالس میں سوالات کرتے اور آپ ان کے جواب دیتے۔اسی طرح سیر کے دوران بھی گفتگو اور سوال و جواب کا سلسلہ جاری رہتا اور خطوط سے آمدہ سوالات کے جوابات بھی آپ لکھواتے تھے۔عام طور پر فقہی مسائل سے متعلق سوالات کے آپ خود بھی جواب دیتے تھے اور کبھی حضرت حکیم مولوی نورالدین صاحب اور حضرت مولوی سید محمد احسن امروہی صاحب کو بھی جواب دینے کے لئے ارشاد فرماتے۔چنانچہ الحکم اور بدر میں جہاں حضرت مسیح موعود کے فتاوی چھپتے وہاں بعض دفعہ ان ہر دو بزگان کے فتاویٰ بھی چھپتے تھے۔بعض دفعہ حضور کی مجلس میں سوال پوچھا جاتا اور آپ ان بزرگان میں سے کسی کی طرف اشارہ کرتے اور وہ جواب دے دیتے اور پھر آپ اس کی توثیق فرما دیتے۔33