فقہ المسیح — Page 479
فقه المسيح 479 رکھتا رہے بلکہ ایسا کرنا چاہیے کہ نفلی روزہ کبھی رکھے اور کبھی چھوڑ دے۔ سخت مجاہدات کرنے پر نا پسندیدگی متفرق )3 بدر 24 اکتوبر 1907ء صفحہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ ایک شخص نے بطور ورد و وظائف دو کچھ پڑھنے کے لئے دریافت کیا ۔ حضور نے فرمایا کہ اتباع سنت اور نمازیں سنوار کر پڑھنا سب سے اعلیٰ وظیفہ ہے اس کے علاوہ چلتے پھرتے درود شریف ، استغفار اور جس قدر وقت فراغت میسر ہو قرآن مجید کو سمجھ کر پڑھنا کافی ہے۔ ہمارے ہاں الٹے لٹک کر یا سردی میں پانی میں کھڑے ہو کر چلہ کرنے کا خلاف سنت کوئی طریق نہیں ہے۔“ اس پر اس درویش نے باصرار کہا کہ میں چونکہ سن شعور سے ہی مجاہدات کا عادی ہوں ۔ اس لئے بطریق مجاہدہ اگر کچھ فرما دیا جاوے تو میں اب ان کے موافق کار بند رہوں گا۔ اس کی یہ بات سن کر حضرت صاحب اُٹھے اور اندر جا کر ایک پلندہ براہین احمدیہ کے اس حصہ کا جو اس وقت تک شائع ہوا تھا اُٹھالائے اور اس کو دے کر فرمایا کہ ”لو جہاں جاؤ اس کو خود بھی پڑھو اور دوسرے لوگوں کو بھی سناؤ۔ خدا نے اس ( سیرت المہدی جلد 2 صفحہ (279) وقت کا یہی مجاہدہ قرار دیا ہے۔“ اپنی عمر دوسرے کو لگا دینے کی دعا کا جواز اخبار بدر نے لکھا کہ میاں محمد دین احمدی کباب فروش لاہور (حال ساکن موضع دھورہ ڈھیری بٹاں ریاست جموں ) نے ایک عریضہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں بھیجا جس میں لکھا تھا ” یا حضرت میں نے چند روز سے محض رضائے الہی کے لیے جناب باری تعالیٰ میں یہ دعا شروع کی ہے کہ میری عمر میں سے دس سال حضرت اقدس مسیح موعود کو دی جاوے کیونکہ اسلام کی اشاعت کے واسطے میری زندگی ایسی مفید نہیں ۔ کیا ایسی دعا مانگنا جائز ہے؟“ حضرت اقدس نے جواب میں تحریر فرمایا :