فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 457 of 611

فقہ المسیح — Page 457

فقه المسيح 457 امور معاشرت ، رہن سہن ، باہمی تعاون کئے گئے تھے پھر ایک اور کیا گیا تھا۔دوسرے دن کچھ گوشت بازار سے بھی منگایا گیا تھا تا کہ تقسیم پوری ہو جاوے۔اس وقت مٹھائی چار سیر روپیہ کی تھی جو کہ اٹھارہ روپیہ کی منگوا کر تمام گھروں میں اور دفاتر و مہمانخانہ وغیرہ سب جگہ تقسیم کی گئی تھی۔(سیرت المہدی جلد 2 صفحہ 223 ) بیعت کے موقعہ پر شیرینی تقسیم کرنے کی اجازت حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ شیخ کرم الہی صاحب پٹیالوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ اپنی بیعت سے قبل میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تقریر لدھیانہ میں سنی۔جب وہ تقریر ختم ہوئی تو نماز مغرب ادا کی گئی۔امامت حضرت صاحب نے خود فرمائی۔اور پہلی رکعت میں فاتحہ کے بعد سورۃ اخلاص اور فلق تلاوت فرمائی۔اور دوسری رکعت میں فاتحہ کے بعد سورۃ اخلاص اور قُلْ اَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ پڑھی۔اس کے بعد حضور نے بیعت لی۔اس روز ہم دو آدمیوں نے بیعت کی تھی۔پہلے جب وہ صاحب بیعت کر کے کمرے سے باہر آ گئے تو حضور کے طلب فرمانے پر عاجز داخل ہوا۔حضور نے دروازہ بند کر کے کنڈی لگادی اور بیعت لی۔بیعت سے قبل خاکسار نے عرض کیا کہ جب میں نے اس سے قبل نقشبندی میں بیعت کی تھی تو کچھ شیرینی تقسیم کی تھی اگر اجازت ہو تو اب بھی منگوالی جائے۔فرما یالا زمی تو نہیں اگر آپ کا دل چاہے تو ہم منع نہیں کرتے اور فرمایا ایسی باتیں جو آج کل لوگ بطور رسم اختیار کئے ہوئے ہیں۔ان کے مآخذ بھی سنت نبوی سے تلاش اور غور کرنے سے مل سکتے ہیں مثلاً یہی شیرینی وغیرہ تقسیم کرنے کا معاملہ ہے۔حدیث سے ثابت ہے کہ ایک موقع پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس گھر پر کچھ آدمیوں کا مجمع ہو اور وہ تمام کی دعوت کی توفیق نہ رکھتا ہو تو اگر حاضرین کو ایک ایک کھجور بھی تقسیم کر دے تو خدا تعالیٰ اس کو دعوت کا ثواب عطا فرمائے گا۔یہاں سے مجالس میں تبرک وغیرہ کی بنیاد پڑی ہے۔اگر کوئی اس نیت سے ایسا