فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 456 of 611

فقہ المسیح — Page 456

فقه المسيح 456 امور معاشرت ، رہن سہن ر با ہمی تعاون 66 کے لیے دعا کرو۔یہ بہتر ہوگا بہ نسبت اس کے کہ تم خود جاؤ۔ایسے مقام پر جانا گناہ ہے۔“ بھاجی قبول نہ کرنا (الحکم 24 اپریل 1902 ، صفحہ 8) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ 7 دسمبر 1899 ء کا واقعہ ہے۔فرمایا کہ ہم نے گھر میں کہا ہوا ہے کہ جب کوئی بھاجی کے طور پر کوئی چیز بھیجے تو نہ لیا کرو۔پھر فرمایا کہ ایک روز ایک عورت سکھ مذہب کی ہمارے گھر میں بعض چیزیں لے کر آئی۔حسب دستور ہمارے گھر سے واپس کر دی گئیں۔اس عورت نے کہا کہ واپس نہ کرو مجھے کوئی غرض نہیں ہے۔مجھ پر آپ نے بڑا احسان کیا ہے۔فرمایا کہ ہم نے اس عورت کو شناخت کیا۔اصل بات یہ تھی کہ اس عورت کے لڑکے کو ام الصبیان کی بیماری تھی اور لڑکا قریب المرگ تھا وہ ہمارے پاس لڑکے کو لے آئی۔اس کا علاج کیا گیا، لڑکا اچھا ہو گیا۔اس کے شکرانہ میں وہ کچھ چیزیں لائی تھی پھر ہم نے گھر میں کہا کہ لے لو۔یہ شکر گزاری کے طور پر ہے۔بچے کی ولادت پر مٹھائی بانٹنا (سیرت المہدی جلد 2 صفحہ 232،231) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ مراد خاتون صاحبہ اہلیہ محترمہ ڈاکٹر خلیفہ رشیدالدین صاحب مرحوم نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ صلاح الدین کے عقیقہ کے وقت ڈاکٹر صاحب نے دو بکرے منگوائے۔میں نے کہا کہ کچھ مٹھائی بھی منگوالو۔میں نے منت مانی ہے کہ لڑکا ہوگا تو مٹھائی تقسیم کروں گی۔ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ عقیقہ کرنا تو سنت ہے۔لڈو بانٹنے بدعت نہ ہوں؟ حضور سے پوچھ لیا جاوے۔اس پر حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ ”خوشی کے موقعہ پر شیرینی بانٹی جائز ہے۔پہلے دو بکرے