فقہ المسیح — Page 453
فقه المسيح 453 امور معاشرت ، رہن سہن ر با ہمی تعاون حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ ڈاکٹر میر محمد اسماعیل نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں گھر کے بچے کبھی شب برات وغیرہ کے موقع پر یونہی کھیل تفریح کے طور پر آتش بازی کے انار وغیرہ منگا کر چلالیا کرتے تھے۔اور بعض اوقات اگر حضرت صاحب موقعہ پر موجود ہوں تو یہ آتش بازی چلتی ہوئی آپ خود بھی دیکھ لیتے تھے۔نیز حضرت خلیفہ اسی الثانی بیان کرتے تھے کہ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ گھر میں آتش بازی کے انار وغیرہ چلانا طاعونی مادہ کو مارنے اور ہوا کی صفائی کے لئے مفید ہوتا ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ ہم بچپن میں بعض اوقات آتش بازی کی اس قسم کی غیر ضرررساں چیزیں جیسے انار ہوتا ہے منگا کر گھر میں چلا لیتے تھے اور حضرت صاحب دیکھتے تھے اور منع نہیں فرماتے تھے بلکہ بعض دفعہ ان چیزوں کے منگانے کے لئے ہم حضرت صاحب سے پیسے مانگتے تھے تو آپ دے دیتے تھے۔آتش بازی اور با جا (سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 341) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ منشی محمد اسماعیل صاحب سیالکوٹی نے مجھ سے بیان کیا کہ مرزا حاکم بیگ کی شادی پر اس کے سسرال نے آتش بازی، تماشے اور باجے کا تقاضا کیا۔انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں لکھا کہ میرے سسرال والے یہ چاہتے ہیں۔حضور کا کیا ارشاد ہے؟ آپ نے فرمایا کہ یہ سب نا جائز ہیں مگر مومن بعض وقت ناجائز سے بھی فائدہ اُٹھا لیتا ہے۔مثلاً شہر میں وبائی مرض پھیلی ہوئی ہے۔ایک شخص اس خیال سے آتش بازی چھوڑتا ہے کہ اس سے ہوا صاف ہو جائے گی اور لوگوں کو فائدہ پہنچے گا تو وہ اس سے بھی گویا ثواب حاصل کرتا ہے اور اسی طرح باجے کے متعلق اگر اس شخص کی یہ نیت ہو کہ چونکہ ہم نے دور تک جانا ہے اور باجے کے ذریعے سے لوگوں کو علم ہو جائے گا کہ فلاں شخص کی