فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 452 of 611

فقہ المسیح — Page 452

فقه المسيح 452 امور معاشرت ، رہن سہن ، باہمی تعاون مشہور ہیں۔حسان بن ثابت نے آنحضرت ﷺ کی وفات پر قصیدہ لکھا ہے۔سید عبدالقادر صاحب نے بھی قصائد لکھے ہیں۔کسی صحابی کا ثبوت نہ دے سکو گے کہ اس نے تھوڑایا بہت شعر نہ کہا ہو مگر آنحضرت ﷺ نے کسی کو منع نہ فرمایا۔قرآن کی بہت سی آیات شعروں سے ملتی ہیں۔ایک شخص نے عرض کی کہ سورہ شعراء میں اخیر پر شاعروں کی مذمت کی ہے۔فرمایا: وہ مقام پڑھو۔وہاں خدا نے فسق و فجور کر نیوالے شاعروں کی مذمت کی ہے اور مومن شاعر کا وہاں خود استثناء کر دیا ہے۔پھر ساری زبور نظم ہے، یرمیاہ سلیمان اور موسیٰ کی نظمیں تو رات میں میں اس سے ثابت ہوا کہ نظم گناہ نہیں ہے ہاں فسق و فجور کی نظم نہ ہو۔ہمیں خود الہام ہوتے ہیں بعض ان میں سے مُقفی اور بعض شعروں میں ہوتے ہیں۔وہ البدر 27 مارچ 1903 ء صفحہ 74) آتش بازی فرمایا: اس میں ایک جز و گندھک کا بھی ہوتا ہے اور گندھک وبائی ہوا صاف کرتی ہے۔چنانچہ آج کل طاعون کے ایام میں مثلاً انار بہت جلد ہوا کو صاف کرتا ہے اور اگر کوئی شخص صحیح نیست اصلاح ہوا کے واسطے ایسی آتش بازی جس سے کوئی خطرہ نقصان کا نہ ہو چلا وے تو ہم اس کو جائز سمجھتے ہیں مگر یہ بہ شرط اصلاح نیت کے ساتھ ہو کیونکہ تمام نتائج نیت پر مترتب ہوتے ہیں۔حدیث میں آیا ہے کہ صحابی نے گھر بنوایا اور آپ کو مجبور کیا کہ آپ اس میں قدم ڈالیں۔آپ نے اس مکان کو دیکھا۔اس کے ایک طرف کھڑ کی تھی۔آپ نے دریافت کیا کہ یہ کس لیے بنائی ہے؟ اس نے عرض کیا کہ ٹھنڈی ہوا کے آنے کے واسطے۔آپ نے فرمایا کہ اگر تو اذان سننے کے واسطے اس کی نیت رکھتا تو ہوا تو آہی جاتی اور تیری نیت کا ثواب بھی تجھے مل جاتا۔(الحکم 24 اپریل 1903 صفحہ 10 )