فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 433 of 611

فقہ المسیح — Page 433

فقه المسيح 433 امور معاشرت ، رہن سہن ، باہمی تعاون پر جو اظہار خوشی کی جائے وہ کم ہے مگر ہم لوگوں کے لئے کیونکہ حضور بروز محمد ہیں اس لئے ہمارے لئے سنت ہو جائیں گے۔اس پر سیر میں کچھ فرمایا جائے۔“ اس پر حضرت اقدس نے تقریر سیر میں فرمائی جس کا خلاصہ یہ ہے۔الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ ایک مسلّم مسئلہ اور صحیح ترین حدیث ہے۔اگر کوئی ریا سے اظہار علی الخلق اور تفوق علی الخلق کی غرض سے کھانا وغیرہ کھلاتا ہے تو ایسا کھانا وغیرہ حرام ہے یا معاوضہ کی غرض سے جیسے بھاجی وغیرہ مگر اگر کوئی تشکر اور اللہ کی رضا جوئی کی نیت سے خرچ کرتا ہے بلا ریا و معاوضہ تو اس میں ہرج نہیں بلکہ بیا ہوں میں اور ولادت میں بڑا اعلان ہونا چاہئے اور بیاہوں میں اعلان بالدف ضروری ہے بلکہ انگریزی با جا بھی اس غرض سے جائز ہے۔اگر کوئی امر خلاف شریعت نہ ہو تو عورتیں گا بھی لیں تو ہرج نہیں لیکن سب سے بڑی بات نیت ہے۔فرمایا کہ بعض لوگ عورتوں کو خليع الرّسن ( حصہ سے زیادہ آزادی۔ناقل ) کر دیتے ہیں یہ بھی ٹھیک نہیں اور بعض ان سے ایسا سلوک کرتے ہیں جیسے بہائم اور لونڈیوں سے۔یہ بھی درست نہیں۔جہاں تک شریعت اجازت دیتی ہے وہاں تک ان کو آزادی دینی چاہئے اور جہاں پر شریعت کے خلاف ہو وہاں ان کو روکنا چاہئے۔اصحاب احمد جلد 2 صفحہ 551 نیا ایڈیشن سیرت حضرت نواب محمد علی خان صاحب) ایک ہندو مہمان کے ساتھ خوش خلقی ایک ہندو دوست جو مہمان بن کر آئے تھے ) نے عرض کیا کہ مجھے تو لوگ ڈراتے تھے کہ مرزا صاحب تو کسی کے ساتھ بات نہیں کرتے اور ہندوؤں کے ساتھ بہت بدخلقی سے پیش آتے ہیں۔میں نے یہ سب بات اس کے برخلاف پائی ہے اور آپ کو اعلیٰ درجہ کا خلیق اور مہمان نواز دیکھا ہے۔حضرت نے فرمایا: لوگ جھوٹی خبریں اُڑا دیتے ہیں۔ہمیں خدا تعالیٰ نے وسیع اخلاق سکھلائے ہیں۔بلکہ ہمیں