فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 430 of 611

فقہ المسیح — Page 430

فقه المسيح 430 امور معاشرت ، رہن سہن ر با ہمی تعاون مسلمانو ! تمام بھلائیوں کو دوڑ کر لو کیونکہ تم تمام قوموں کا مجموعہ ہو اور تمام فطرتیں تمہارے اندر ہیں۔غرض مذکورہ بالا وجوہ کی بنا پر خدا نے نوع انسان کو کئی قوموں پر منقسم کر دیا۔پہلے زمانہ کے لوگ تو آبائی رشتہ کے سلسلہ میں منسلک تھے اور ان میں وحدت قرابت حاصل تھی اور پھر جب بہت سی قومیں بن گئیں تو ہر ایک قوم میں وحدت قائم کرنے کے لئے کتابیں بھیجی گئیں اور اُس زمانہ میں ہر ایک حصہ ملک میں صرف قومی وحدت حاصل ہو سکتی تھی اس سے زیادہ نہیں یعنی تمام دنیا کی وحدت غیر ممکن تھی اور پھر تیسرا زمانہ ایسا آیا جس میں اقوامی وحدت کے سامان پیدا ہو گئے یعنی تمام دنیا کی وحدت کے سامان ظہور میں آگئے اور ہر ایک زمانہ جو نوع انسان پر آیا وہ اس بات کا مقتضی تھا جو اسی زمانہ کے مطابق کتاب دی جاوے۔یہی وجہ ہے کہ قومی وحدت کا جب خدا نے ارادہ کیا تب ہر ایک قوم کے لئے جدا جدا رسول بھیجا اور یہ قومی وحدت اقوامی وحدت سے مقدم تھی اور حکمت ربانی اس امر کی مقتضی تھی کہ اوّل ہر ایک ملک میں قومی وحدت قائم کرے اور جب قومی وحدت کا دور ختم ہو چکا تب اقوامی وحدت کا زمانہ شروع ہو گیا اور وہی زمانہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کا تھا اور یادر ہے کہ کسی رسول اور کتاب کی اسی قدر عظمت سمجھی جاتی ہے جس قدر اُن کو اصلاح کا کام پیش آتا ہے اور جس قدر اس اصلاح کے وقت مشکلات کا سامنا پڑتا ہے سو یہ بات ظاہر ہے کہ ابتدائے زمانہ میں جو کتاب نازل ہوئی ہوگی وہ کسی طرح کامل مکمل نہیں ہوسکتی کیونکہ ابتدائے زمانہ میں اِن مشکلات کا وہم و گمان بھی نہیں آسکتا جو بعد میں پیدا ہوئیں ایسا ہی قومی وحدت کے زمانہ میں اسی وقت میں اس وقت کے نبیوں اور رسولوں کو وہ مشکلات ہر گز پیش نہیں آسکتی تھیں جو اقوامی وحدت کے زمانہ میں اس نبی کو پیش آئیں جس کو یہ حکم ہوا کہ جو تمام قوموں کو ایک وحدت پر قائم کرو۔چشمہ معرفت۔روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 144 تا 147 )