فقہ المسیح — Page 428
فقه المسيح 428 امور معاشرت / رہن سہن ر با ہمی تعاون امور معاشرت، رہن سہن اور باہمی تعاون وحدت قومی سے وحدت اقوامی تک فرمایا: جیسا کہ خدا تعالیٰ کی ذات میں وحدت ہے ایسا ہی وہ نوع انسان میں بھی جو ہمیشہ کی بندگی کے لئے پیدا کئے گئے ہیں وحدت کو ہی چاہتا ہے اور درمیانی تفرقہ قوموں کا جو بباعث کثرت نسل انسان نوع انسان میں پیدا ہوا وہ بھی دراصل کامل وحدت پیدا کرنے کے لئے ایک تمہید تھی کیونکہ خدا نے یہی چاہا کہ پہلے نوع انسان میں وحدت کے مختلف حصے قائم کر کے پھر ایک کامل وحدت کے دائرہ کے اندرسب کو لے آوےسوخدا نے قوموں کے جدا جدا گروہ مقرر کئے اور ہر ایک قوم میں ایک وحدت پیدا کی اور اس میں یہ حکمت تھی کہ تا قوموں کے تعارف میں سہولت اور آسانی پیدا ہو اور ان کے باہمی تعلقات پیدا ہونے میں کچھ دقت نہ ہو اور پھر جب قوموں کے چھوٹے چھوٹے حصوں میں تعارف پیدا ہو گیا تو پھر خدا نے چاہا کہ سب قوموں کو ایک قوم بناوے جیسے مثلاً ایک شخص باغ لگا تا ہے اور باغ کے مختلف بوٹوں کو مختلف تختوں پر تقسیم کرتا ہے۔اور پھر اس کے بعد تمام باغ کے اردگرد دیوار کھینچ کر سب درختوں کو ایک ہی دائرہ کے اندر کر لیتا ہے اسی کی طرف قرآن شریف نے اشارہ فرمایا ہے اور وہ یہ آیت ہے۔إنَّ هذه أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُونِ (الانبياء : 93) یعنی اے دنیا کے مختلف حصوں کے نبیو! یہ مسلمان جو مختلف قوموں میں سے اس دنیا میں اکٹھے ہوئے ہیں یہ تم سب کی ایک اُمت ہے جو سب پر ایمان لاتے ہیں اور میں تمہارا خدا ہوں سو تم سب مل کر میری ہی عبادت کرو۔(دیکھو الجز و نمبر۷ اسورۃ الانبیاء ) اس تدریجی وحدت کی مثال ایسی ہے جیسے خدا تعالیٰ نے حکم دیا کہ ہر ایک محلہ کے لوگ اپنی اپنی محلہ کی مسجدوں میں پانچ وقت جمع ہوں اور پھر حکم دیا کہ تمام شہر کے لوگ ساتویں دن شہر کی جامع مسجد میں جمع ہوں یعنی ایسی وسیع