فقہ المسیح — Page 422
فقه المسيح 422 نئی ایجادات یا درکھو اسلام بت نہیں بلکہ زندہ مذہب ہے۔مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آجکل نا سمجھ مولویوں نے لوگوں کو اسلام پر اعتراض کرنے کا موقعہ دیا ہے۔آنکھوں میں ہر شے کی تصویر بنتی ہے۔بعض پتھر ایسے ہیں کہ جانور اڑتے ہیں تو خود بخودان کی تصویر اتر آتی ہے۔اللہ تعالیٰ کا نام مصور ہے۔يُصَوِّرُ كُمْ فِي الْأَرْحَامِ (ال عمران : 7) پھر بلا سوچے سمجھے کیوں اعتراض کیا جاتا ہے۔اصل بات یہی ہے جو میں نے بیان کی ہے کہ تصویر کی حرمت غیر حقیقی ہے کسی محل پر ہوتی ہے اور کسی پر نہیں۔غیر حقیقی حرمت میں ہمیشہ نیت کو دیکھنا چاہیے۔اگر نیت شرعی ہے تو حرام نہیں ورنہ حرام ہے۔الحکم 28 فروری 1902 ، صفحہ 6) حضرت مسیح موعود کا اپنی تصویر ڈاک کے کارڈ پر چھپوانے پر نا پسندیدگی مفتی محمد صادق صاحب نے حضرت اقدس کی خدمت میں ایک شخص کی تحریری درخواست بذریعہ کارڈ کے ان الفاظ میں پیش کی کہ یہ شخص حضور کی تصویر کو خط و کتابت کے کارڈوں پر چھاپنا چاہتے ہیں اور اجازت طلب کرتے ہیں۔اس پر حضور نے فرمایا: میں تو اسے ناپسند کرتا ہوں۔یہ الفاظ جا کر میں نے اپنے کانوں سے سنے لیکن حضرت مولوی نورالدین صاحب اور حکیم فضل دین صاحب بیان کرتے ہیں کہ اس سے پیشتر آپ نے یہ الفاظ فرمائے کہ یہ بدعت بڑھتی جاتی ہے۔میں اسے نا پسند کرتا ہوں۔البدریکم و 8 نومبر 1904 ، صفحہ 9) ایک اور موقع پر ذکر آیا کہ ایک شخص نے حضور کی تصویر ڈاک کے کارڈ پر چھپوائی ہے تا کہ لوگ ان کارڈوں کو خرید کر خطوط میں استعمال کریں۔حضرت مسیح موعود نے فرمایا: میرے نزدیک یہ درست نہیں۔بدعت پھیلانے کا یہ پہلا قدم ہے۔ہم نے جو تصویر فوٹو