فقہ المسیح — Page 421
فقه المسيح 421 نئی ایجادات تھی کہ تا تثلیث کی تردید کر کے دکھا ئیں کہ اسلام نے جو خدا پیش کیا ہے وہی حقیقی خدا ہے جو حتی و قیوم از لی وابدی غیر متغیر ہے اور تجسم سے پاک ہے۔اس طرح پر اگر خدمت اسلام کے لیے کوئی تصویر ہو ، تو شرع کلام نہیں کرتی کیونکہ جو امور خادم شریعت ہیں ان پر اعتراض نہیں ہے۔کہتے ہیں کہ حضرت موسی کے پاس کل نبیوں کی تصویریں تھیں۔قیصر روم کے پاس جب صحابہ گئے تھے ، تو انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تصویر اسکے پاس دیکھی تھی۔تو یاد رکھنا چاہیے کہ نفس تصویر کی حرمت نہیں بلکہ اس کی حرمت اضافی ہے جو لوگ لغو طور پر تصویر میں رکھتے اور بناتے ہیں وہ حرام ہیں۔شریعت ایک پہلو سے حرام کرتی ہے اور ایک جائز طریق پر اسے حلال ٹھہراتی ہے۔روزہ ہی کو دیکھو رمضان میں حلال ہے لیکن اگر عید کے دن روزہ رکھے تو حرام ہے۔گر حفظ مراتب نہ گئی زندیقی حرمت دو قسم کی ہوتی ہے۔ایک بالنفس حرام ہوتی ہے، ایک بالنسبت۔جیسے خنزیر بالکل حرام ہے خواہ وہ جنگل کا ہو یا کہیں کا، سفید ہو یا سیاہ، چھوٹا ہو یا بڑا ہر ایک قسم کا حرام ہے۔یہ حرام بالنفس ہے۔لیکن حرام بالنسبت کی مثال یہ ہے کہ ایک شخص محنت کر کے کسب حلال سے روپیہ پیدا کرے تو حلال ہے لیکن اگر وہی روپیہ نقب زنی قمار بازی سے حاصل کرے تو حرام ہوگا۔بخاری کی پہلی ہی حدیث ہے۔إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ ایک خونی ہے اگر اس کی تصویر اس غرض سے لے لیں کہ اس کے ذریعہ اس کو شناخت کر کے گرفتار کیا جاوے تو یہ نہ صرف جائز ہوگی ، بلکہ اس سے کام لینا فرض ہو جائے گا۔اسی طرح اگر ایک شخص اسلام کی توہین کرنے والے کی تصویر بھیجتا ہے تو اس کو اگر کہا جاوے کہ حرام کام کیا ہے تو یہ کہنا موذی کا کام ہے۔