فقہ المسیح — Page 411
فقه المسيح 411 بدعات اور بد رسومات جاتے ہیں۔ایک آدمی مقرر کر لیتے ہیں جو ہر روز دودھ یا کوئی اور چیز پہنچا آتا ہے۔ایک تنگ و تاریک گندی سی کوٹھڑی یا غار ہوتی ہے اور اس میں پڑے رہتے ہیں۔خدا جانے وہ اس میں کس طرح رہتے ہیں۔پھر بُری بُری حالتوں میں باہر نکلتے ہیں۔یہ اسلام رہ گیا ہے۔میری سمجھ میں نہیں آتا کہ ان چلہ کشیوں سے اسلام اور مسلمانوں یا عام لوگوں کو کیا فائدہ پہنچتا ہے اور اس میں اخلاق میں کیا ترقی ہوتی ہے۔(احکم 9 جولائی 1900 صفحہ 4) فرمایا: میں جانتا ہوں کہ جن لوگوں نے ان ارکان کو چھوڑ کر اور بدعتیں تراشی ہیں یہ اُن کی اپنی شامت اعمال ہے ورنہ قرآن شریف تو کہہ چکا تھا الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ (المائدة : 4) اکمال دین ہو چکا تھا اور اتمام نعمت بھی ، خدا کے حضور پسندیدہ دین اسلام ٹھہر چکا تھا۔اب پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال خیر کی راہ چھوڑ کر اپنے طریقے ایجاد کرنا اور قرآن شریف کی بجاۓ اور وظائف اور کافیاں پڑھنایا اعمال صالحہ کی بجائے قسم قسم کے ذکر اذکار نکال لینا یہ لذت روح کے لیے نہیں ہے بلکہ لذت نفس کی خاطر ہے۔لوگوں نے لذت نفس اور لذت روح میں فرق نہیں کیا اور دونوں کو ایک ہی چیز قرار دیا ہے حالانکہ وہ دو مختلف چیزیں ہیں۔اگر لذت نفس اور لذت روح ایک ہی چیز ہے تو میں پوچھتا ہوں کہ ایک بد کا رعورت کے گانے سے بدمعاشوں کو زیادہ لذت آتی ہے۔کیا وہ اس لذت نفس کی وجہ سے عارف باللہ اور کامل انسان مانے جائیں گے۔ہرگز نہیں جن لوگوں نے خلاف شرع اور خلاف پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم راہیں نکالی ہیں ان کو یہی دھوکا لگا ہے کہ وہ نفس اور روح کی لذت میں کوئی فرق نہیں کر سکے ور نہ وہ ان بیہودگیوں میں روح کی لذت اور اطمینان نہ پاتے۔ان میں نفس مطمئنہ نہیں ہے جو بلھے شاہ کی کا فیوں میں لذت کے جو یاں ہیں روح کی لذت قرآن شریف سے آتی ہے۔- (الحام 31 جولائی 1902 ء صفحہ 8)