فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 390 of 611

فقہ المسیح — Page 390

فقه المسيح 390 بدعات اور بد رسومات نیو تہ ( جسے پنجابی میں نیوند را کہتے ہیں ) امداد باہمی کے لئے شروع ہوا لیکن اب وہ ایک تکلیف دہ رسم ہوگئی ہے۔فاتحہ خوانی اور اسقاط (سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 744) عرض کیا گیا کہ جب کوئی مسلمان مرجائے تو اس کے بعد جو فاتحہ خوانی کا دستور اس کی شریعت میں کوئی اصل ہے یا نہیں؟ فرمایا: وو نہ حدیث میں اس کا ذکر ہے نہ قرآن شریف میں نہ سنت میں۔“ عرض کیا گیا کہ اگر یہ سمجھ لیا جائے کہ دعائے مغفرت ہی ہے؟ فرمایا: نہ اسقاط درست نہ اس طریق سے دعا ہے کیونکہ بدعتوں کا دروازہ کھل جاتا ہے۔میت کے لئے اسقاط ( بدر 19 اپریل 1906 ، صفحہ 3) سوال ہوا کہ ملاں لوگ مُردوں کے پاس کھڑے ہو کر اسقاط کراتے ہیں کیا اس کا کوئی طریق جائز ہے؟ فرمایا : ”اس کا کہیں ثبوت نہیں ہے۔ملاؤں نے ماتم اور شادی میں بہت سی رسمیں پیدا کر لی ہیں۔یہ بھی ان میں سے ایک ہے۔“ ایک اور موقعہ پر فرمایا : الحلم 24 اپریل 1903 ءصفحہ 10 ) ( ان لوگوں نے ) ایک طریق اسقاط کا رکھا ہے قرآن شریف کو چکر دیتے ہیں۔یہ اصل میں قرآن شریف کی بے ادبی ہے۔انسان خدا سے سچا تعلق رکھنے والا نہیں ہوسکتا جب تک سب نظر خدا پر نہ ہو۔“ 66 (البدر 16 مارچ 1904 ءصفحہ 6)