فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 383 of 611

فقہ المسیح — Page 383

فقه المسيح 383 بدعات اور بد رسومات قرآن شریف میں یہ حکم ہے کہ صرف إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ کہیں یعنی ہم خدا کا مال اور ملک ہیں اسے اختیار ہے جب چاہے اپنا مال لے لے اور اگر رونا ہوتو صرف آنکھوں سے آنسو بہانا جائز ہے اور جو اس سے زیادہ ہے وہ شیطان سے ہے۔(2) دوم۔برابر ایک سال تک سوگ رکھنا اور نئی نئی عورتوں کے آنے کے وقت یا بعض خاص دنوں میں سیا پا کرنا اور با ہم عورتوں کا سر ٹکرا کر چلا کر رونا اور کچھ کچھ منہ سے بھی بکواس کرنا اور پھر برابر ایک برس تک بعض چیزوں کا پکانا چھوڑ دینا اس عذر سے کہ ہمارے گھر یا ہماری برادری میں ماتم ہو گیا ہے۔یہ سب نا پاک رسمیں اور گناہ کی باتیں ہیں جن سے پر ہیز کرنا چاہیے۔(3) سوم۔سیا پا کرنے کے دنوں میں بے جا خرچ بھی بہت ہوتے ہیں۔حرامخور عورتیں ، شیطان کی بہنیں جو دور دور سے سیا پا کرنے کے لئے آتی ہیں اور مکر اور فریب سے منہ کو ڈھانک کر اور بھینسوں کی طرح ایک دوسرے سے ٹکرا کر چھینیں مار کر روتی ہیں۔ان کو اچھے اچھے کھانے کھلائے جاتے ہیں اور اگر مقدور ہو تو اپنی شیخی اور بڑائی جتانے کے لئے صد ہا روپیہ کا پلاؤ اور زردہ پکا کر برادری وغیرہ میں تقسیم کیا جاتا ہے۔اس غرض سے کہ تالوگ واہ واہ کریں کہ فلاں شخص نے مرنے پر اچھی کرتوت دکھلائی۔اچھا نام پیدا کیا۔سو یہ سب شیطانی طریق ہیں جن سے تو بہ کرنا لازم ہے۔(4) اگر کسی عورت کا خاوند مر جائے تو گو وہ عورت جوان ہی ہو۔دوسرا خاوند کرنا ایسا برا جانتی ہے جیسا کوئی بڑا بھارا گناہ ہوتا ہے اور تمام عمر بیوہ یا رانڈ رہ کر یہ خیال کرتی ہے کہ میں نے بڑے ثواب کا کام کیا ہے اور پاک دامن بیوی ہوگئی ہوں حالانکہ اس کے لئے بیوہ رہنا سخت گناہ کی بات ہے۔عورتوں کے لئے بیوہ ہونے کی حالت میں خاوند کر لینا نہایت ثواب کا کام ہے۔ایسی عورت حقیقت میں بڑی نیک بخت اور ولی ہے جو بیوہ ہونے کی حالت میں