فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 382 of 611

فقہ المسیح — Page 382

فقه المسيح 382 بدعات اور بد رسومات دیکھتا ہوں کہ ہمارے گھروں میں قسم قسم کی خراب رسمیں اور نالائق عادتیں جن سے ایمان جاتا رہتا ہے گلے کا ہار ہو رہی ہیں اور اُن بری رسموں اور خلاف شرع کاموں سے یہ لوگ ایسا پیار کرتے ہیں جو نیک اور دینداری کے کاموں سے کرنا چاہیے۔ہر چند سمجھایا گیا ، کچھ سنتے نہیں۔ہر چند ڈرایا گیا۔کچھ ڈرتے نہیں اب چونکہ موت کا کچھ اعتبار نہیں اور خدا تعالیٰ کے عذاب سے بڑھ کر اور کوئی عذاب نہیں اس لئے ہم نے ان لوگوں کے برا ماننے اور برا کہنے اور ستانے اور دکھ دینے سے بالکل لا پروا ہو کر محض ہمدردی کی راہ سے حق نصیحت پورا کرنے کے لئے بذریعہ اس اشتہار کے ان سب کو اور دوسری مسلمان بہنوں اور بھائیوں کو خبر دار کرنا چاہا تا ہماری گردن پر کوئی بوجھ باقی نہ رہ جائے اور قیامت کو کوئی نہ کہہ سکے کہ ہم کو کسی نے نہیں سمجھایا اور سیدھا راہ نہیں بتایا۔سو آج ہم کھول کر بآواز بلند کہ دیتے ہیں کہ سیدھا راہ جس سے انسان بہشت میں داخل ہوتا ہے، یہی ہے کہ شرک اور رسم پرستی کے طریقوں کو چھوڑ کر دین اسلام کی راہ اختیار کی جائے اور جو کچھ اللہ جلشانہ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے اور اس کے رسول نے ہدایت کی ہے اس راہ سے نہ بائیں طرف منہ پھیریں نہ دائیں اور ٹھیک ٹھیک اسی راہ پر قدم ماریں اور اس کے برخلاف کسی راہ کو اختیار نہ کریں۔لیکن ہمارے گھروں میں جو بدرسمیں پڑ گئی ہیں اگر چہ وہ بہت ہیں۔مگر چند موٹی موٹی رسمیں بیان کی جاتی ہیں۔تانیک بخت عورتیں خدا تعالیٰ سے ڈر کر ان کو چھوڑ دیں۔اور وہ یہ ہیں۔(1) ماتم کی حالت میں جزع فزع اور نوحہ یعنی سیا پا کرنا اور چیچنیں مار کر رونا اور بے صبری کے کلمات منہ پر لانا۔یہ سب باتیں ایسی ہیں جن کے کرنے سے ایمان کے جانے کا اندیشہ ہے اور یہ سب رسمیں ہندوؤں سے لی گئی ہیں۔جاہل مسلمانوں نے اپنے دین کو بھلا دیا اور ہندوؤں کی رسمیں پکڑ لیں۔کسی عزیز اور پیارے کی موت کی حالت میں مسلمانوں کے لئے