فقہ المسیح — Page 380
فقه المسيح 380 بدعات اور بد رسومات نماز کے وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام مسجد مبارک میں تشریف فرما تھے۔مسجد بھری ہوئی تھی۔ایک پنجابی مولوی صاحب نے کھڑے ہو کر حضور سے عرض کیا کہ صوفیوں کے فرقہ نقش بندیہ وغیرہ میں جو کلمہ نفی اثبات کو پیشانی تک لے جا کر اور اطراف پر گذارتے ہوئے قلب پر اِلَّا اللہ کی ضرب مارنے کا طریق مروج ہے۔اس کے متعلق حضور کا کیا حکم ہے؟ حضور نے فرمایا کہ چونکہ شریعت سے اس کی کوئی سند نہیں اور نہ اسوۂ حسنہ سے اس کا کچھ پتہ چلتا ہے اس لئے ہم ایسے طریقوں کی ضرورت نہیں خیال کرتے۔اس مولوی نے پھر کہا کہ اگر یہ امور خلاف شرع ہیں تو بڑے بڑے مسلمہ اور مشاہیر جن میں حضرت احمد سر ہندی رحمۃ اللہ علیہ جیسے اولیاء بھی ہیں جنہوں نے مجدد الف ثانی ہونے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔یہ سب لوگ بدعت کے مرتکب ہوئے اور لوگوں کو اس کی ترغیب و تعلیم دینے والے ہوئے۔حضور نے فرمایا اسلام پر ایک زمانہ ایسا بھی آیا ہے کہ فتوحات کے بڑھ جانے اور دنیاوی دولت اور سامان تعیش کی فراوانی سے لوگوں کے دلوں سے خدا کے نام کی گرمی سرد پڑتی جارہی تھی۔اس وقت اگر ان بزرگوں نے بعض ایسے اعمال اختیار کئے ہوں جو اُن کے خیال میں اس وقت اس روحانی وبائی مرض میں مفید تھے تو وہ ایک وقتی ضرورت تھی اور بوجہ ان کی نیک نیتی کے اس کو خدا کے حوالہ کر دینا مناسب ہے۔حضور نے فرمایا اس کی مثال ایسی ہے کہ جیسے کوئی قافلہ راستہ بھول کر ایسے جنگل میں جا نکلے جہاں پانی کا نشان نہ ہو۔اور ان میں سے بعض پیاس کی شدت سے زبان خشک ہو کر جان بلب ہوں۔اور ان کے ہمرا ہی درختوں کے پتے پتھروں سے کوٹ کر ان کا پانی نکالیں اور تشنہ دہانوں کے حلق میں ڈالیں تا کسی طرح پانی ملنے تک ان کا حلق بالکل خشک ہو کر ہلاکت کا موجب نہ ہو جائے۔یا دامن کوہ میں پتھروں کو تو ڑ کر اور بڑی مشکلوں سے کاٹ کاٹ کر کنواں کھودا جاتا ہے یا ریگستان میں بڑی مصیبت سے اگر سو سو ہاتھ کھودا جائے تو کنواں برآمد ہوتا ہے۔لیکن جہاں دریا جاری ہو۔کیا وہاں