فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xliii of 611

فقہ المسیح — Page xliii

حرف آغاز حكم عدل کا فقہی اسلوب سے اظہار علی الخلق اور تفوق علی الخلق کی غرض سے کھانا وغیرہ کھلاتا ہے تو ایسا کھانا وغیرہ حرام ہے یا معاوضہ کی غرض سے جیسے بھاجی وغیرہ۔مگر اگر کوئی تشکر اور اللہ کی 66 رضا جوئی کی نیت سے خرچ کرتا ہے بلا ریا ومعاوضہ تو اس میں حرج نہیں۔“ ( اصحاب احمد جلد 2 صفحہ 551۔سیرت حضرت نواب محمد علی خان صاحب۔نیا ایڈیشن ) اسی طرح ایک موقع پر آپ نے فرمایا 66 سمجھتا ہوں “ میں یہ بھی دیکھتا ہوں کہ مجھ پر اللہ تعالیٰ کے لا انتہاء فضل اور انعام ہیں۔ان کی تحدیث مجھ پر فرض ہے پس میں جب کوئی کام کرتا ہوں تو میری غرض اور نیت اللہ تعالیٰ کے جلال کا اظہار ہوتی ہے۔ایسا ہی اس آمین کی تقریب پر بھی ہوا ہے۔یہ لڑ کے چونکہ اللہ تعالیٰ کا ایک نشان ہیں اور ہر ایک ان میں سے خدا تعالیٰ کی پیشگوئیوں کا زندہ نمونہ ہیں اس لئے میں اللہ تعالیٰ کے ان نشانوں کی قدر کرنی فرض (الحکم 10 اپریل 1903 ، صفحہ 2) اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام دینی غیرت اور حمیت کے جذبہ کو پیش نظر رکھتے تھے۔چنانچہ آپ نے اسی جذبہ کے پیش نظر اسلام کی طرف سے مدافعت کا خوب حق ادا کیا۔جب دشمنانِ اسلام، اسلام پر حملہ آور ہورہے تھے آپ نے تحریری اور تقریری ہر دو ذریعوں سے اسلام پر ہونے والے اعتراضات کے جواب دیئے اور بعض مواقع پر آپ کے ہندوؤں اور عیسائیوں کے ساتھ مباحثات بھی ہوئے۔ایک ایسے ہی موقع پر جب آپ کا پادری عبداللہ آتھم کے ساتھ مباحثہ ہوا تو وہ گرمی کا موسم تھا۔حضرت میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی کی روایت ہے کہ ”پانی کی ضرورت پڑتی تھی لیکن پانی اپنے ساتھ لے جایا جاتا تھا۔عیسائیوں کے چاہ ( کنوئیں ) کا پانی نہیں لیا جاتا تھا کیونکہ عیسائی قوم حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخیاں کرنے والی ہے لہذا ان کے چاہ کا پانی پینا 21