فقہ المسیح — Page 358
فقه المسيح 358 حلت و حرمت دوسری قوموں کے لئے بھی یہی حکم ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے۔وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا اَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللهُ لَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (النور: 23) یعنی لوگوں کے گناہ بخشو اور اُن کی زیادتیوں اور قصوروں کو معاف کرو۔کیا تم نہیں چاہتے کہ خدا بھی تمہیں معاف کرے اور تمہارے گناہ بخشے اور وہ تو غفور و رحیم ہے۔شراب کی حرمت چشمہ معرفت۔روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 387 ) ان دونوں کتابوں (تو رات اور انجیل۔ناقل ) کے پیروؤں میں شراب اور قمار بازی کی کوئی حد نہیں رہی تھی کیونکہ ان کتابوں میں یہ نقص تھا کہ ان خبیث چیزوں کو حرام نہیں ٹھہرایا اور عیاش لوگوں کو اُن کے استعمال سے منع نہیں کیا تھا اسی وجہ سے یہ دونوں قو میں اس قدر شراب پیتی تھیں کہ جیسے پانی اور قمار بازی بھی حد سے زیادہ ہوگئی تھی مگر قرآن شریف نے شراب کو جو ام الخبائث ہے قطعاً حرام کر دیا اور یہ فخر خاص قرآن شریف کو ہی حاصل ہے کہ ایسی خبیث چیز جس کی خباثت پر آج کل تمام یورپ کے لوگ فریاد کر اٹھے ہیں وہ قرآن شریف نے ہی قطعا حرام کر دی ایسا ہی قمار بازی کو قطعاً حرام کیا۔شراب کے مضر اثرات (چشمہ معرفت۔روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 267) شراب کا ذکر شروع ہو گیا۔کسی نے کہا کہ اب تو حضور شراب کے بسکٹ بھی ایجاد ہوئے ہیں فرمایا: شراب تو انسانی شرم، حیا، عفت، عصمت کی جانی دشمن ہے۔انسانی شرافت کو ایسا کھو دیتی ہے کہ جیسے کتے ، بلے، گدھے ہوتے ہیں۔اس کو پی کر بالکل انہی کے مشابہ ہو جاتا ہے۔اب اگر بسکٹ کی بلا دنیا میں پھیلی تو ہزاروں نا کردہ گناہ بھی ان میں شامل ہو جایا کریں گے۔پہلے تو بعض کو شرم و حیا ہی روک دیتی تھی۔اب بسکٹ لیے اور جیب میں ڈال لیے۔بات یہ ہے کہ