فقہ المسیح — Page 357
فقه المسيح 357 حلت و حرمت حلت رکھی ہے۔سوائے اس کے جہاں حرمت کی کوئی وجہ ہو یا ظاہری حکم حرمت کا موجود ہو۔باقي إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ پر منحصر ہے۔نیت درست ہو تو عمل مقبول ہو جاتا ہے درست نہ ہو تو نا جائز ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب کا یہ عام طریق تھا کہ سوائے ایسے مسائل کے جن میں شریعت نے کوئی تصریح کی ہو ، اکثر صورتوں میں آپ الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّات پر بنیا د ر کھتے تھے اور مسائل کے جواب میں یہی فقرہ دہرا دیتے تھے۔(سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 511) خرگوش حلال ہے کسی نے خرگوش کے حلال ہونے پر حضرت اقدس سے پوچھا تو آپ نے فرمایا: اصل اشیاء میں حلت ہے حرمت جب تک نص قطعی سے ثابت نہ ہو تب تک نہیں ہوتی۔“ شراب اور جوئے کی حرمت البدر 14 نومبر 1902 صفحہ 19) 66 قرآن شریف نے شراب کو جو ام الخبائث ہے قطعا حرام کر دیا ہے اور یہ فخر خاص قرآن شریف کو ہی حاصل ہے کہ ایسی خبیث چیز جس کی خباثت پر آج کل تمام یورپ کے لوگ فریاد کر اُٹھے ہیں وہ قرآن شریف نے ہی قطعا حرام کر دی اور ایسا ہی قمار بازی کو قطعا چشمہ معرفت۔روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 267) حرام کیا۔دوسری قوموں سے سود لینا بھی حرام ہے مذہب اسلام میں جیسا کہ اپنی قوم سے سود لینا حرام ہے ایسا ہی دوسری قوموں سے بھی سود لینا حرام ہے بلکہ خدا نے یہ بھی فرمایا ہے کہ نہ صرف سود حرام ہے بلکہ اگر تمہارا قرض دار مفلس ہو تو اس کو قرض بخش دو یا کم سے کم یہ کہ اس وقت تک انتظار کرو کہ وہ قرض ادا کرنے کے لائق ہو جائے اور جیسا کہ قرآن شریف میں اپنی قوم کے لئے گناہ معاف کرنے کا حکم ہے ایسا ہی