فقہ المسیح — Page xli
حرف آغاز حكم عدل کا فقہی اسلوب دے کر تنگی اور تکلیف میں نہیں ڈالا بلکہ بعض جگہ رھتیں اور رعایتیں بھی دی ہیں لیکن لوگ عموما تنگی والے راستے کو اختیار کرتے ہیں۔آپ نے اپنی جماعت کو سمجھایا کہ خدا کی طرف سے دی گئی رخصتیں بھی اس کے احکام کی طرح اہم ہیں اور اُن پر عمل کرنا بھی ضروری ہے۔ایک ایسے ہی موقع پر جبکہ ایک مہمان کی مہمان نوازی کے بارہ میں آپ نے ہدایت فرمائی اور اس سے آپ نے پوچھا کہ آپ مسافر ہیں آپ نے روزہ تو نہیں رکھا ہوگا۔اس نے کہا کہ میں نے روزہ رکھا ہوا ہے۔اس پر آپ نے فرمایا اصل بات یہ ہے کہ قرآن شریف کی رخصتوں پر عمل کرنا بھی تقوی ہے۔خدا تعالیٰ نے مسافر اور بیمار کو دوسرے وقت رکھنے کی اجازت اور رخصت دی ہے اس لئے اس حکم پر بھی تو عمل رکھنا چاہئے۔میں نے پڑھا ہے کہ اکثرا کا بر اس طرف گئے ہیں کہ اگر کوئی حالتِ سفر یا بیماری میں روزہ رکھتا ہے تو یہ معصیت ہے کیونکہ غرض تو اللہ تعالیٰ کی رضا ہے نہ اپنی مرضی اور اللہ تعالیٰ کی رضا فر ما نبرداری میں ہے جو حکم وہ دے اس کی اطاعت کی جاوے اور اپنی طرف سے اس پر حاشیہ نہ چڑھایا جاوے۔“ الحام 31 جنوری 1907 صفحہ 14 ) خدا تعالیٰ کی رخصتوں پر عمل کرنے کے ضمن میں آپ نے شریعت کے اس نقطہ کی طرف بھی توجہ دلائی کہ اللہ تعالیٰ نے دین میں کوئی حرج اور تنگی نہیں رکھی۔فرمایا شریعت کی بناء نرمی پر ہے سختی پر نہیں ہے۔“ 66 الحکم 10 اگست 1903 صفحہ 20 ) 10۔شعائر الله کا احترام اور دینی غیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فتاویٰ میں ہمیں یہ خصوصی انداز نظر آتا ہے کہ آپ مسائل کی صرف ظاہری صورتوں پر ہی نظر نہیں رکھتے تھے بلکہ تحدیث نعمت اور اظہار شکر گزاری کا 19