فقہ المسیح — Page 345
فقه المسيح 345 حکومت کی اطاعت مندرجہ ذیل اعلان شائع کروایا۔فرمایا: چونکہ میں دیکھتا ہوں کہ ان دنوں میں بعض جاہل اور شریر لوگ اکثر ہندوؤں میں سے اور کچھ کچھ مسلمانوں میں سے گورنمنٹ کے مقابل ایسی ایسی حرکات ظاہر کرتے ہیں جن سے بغاوت کی بُو آتی ہے بلکہ مجھے شک ہوتا ہے کہ کسی وقت باغیانہ رنگ ان کی طبائع میں پیدا ہو جائیگا اس لیے میں اپنی جماعت کے لوگوں کو جو مختلف مقامات پنجاب ، ہندوستان میں موجود ہیں جو بفضلہ تعالیٰ کئی لاکھ تک اُن کا شمار پہنچ گیا ہے۔نہایت تاکید سے نصیحت کرتا ہوں کہ وہ میری اس تعلیم کو خوب یا درکھیں جو قریباً چھبیس برس سے تقریری اور تحریری طور پر ان کے ذہن نشین کرتا آیا ہوں یعنی یہ کہ اس گورنمنٹ انگریزی کی پوری اطاعت کریں کیونکہ وہ محسن گورنمنٹ ہے۔اس کے ظل حمایت میں ہمارا یہ فرقہ احمد یہ چند سال میں لاکھوں تک پہنچ گیا ہے اور اس گورنمنٹ کا احسان ہے کہ اس کے زیر سایہ ہم ظالموں کے پنجہ سے محفوظ ہیں۔خدائے تعالیٰ کی حکمت اور مصلحت ہے کہ اُس نے اس گورنمنٹ کو اس بات کے لیے چن لیا که تا یه فرقه احمد یہ اس کے زیر سایہ ہو کر ظالموں کے خونخوار حملوں سے اپنے تئیں بچاوے اور ترقی کرے۔کیا تم یہ خیال کر سکتے ہو کہ تم سلطان روم کی عملداری میں رہ کر یا مکہ اور مدینہ میں ہی اپنا گھر بنا کر شریر لوگوں کے حملوں سے بچ سکتے ہو۔نہیں ہرگز نہیں۔بلکہ ایک ہفتہ میں ہی تم تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے کئے جاؤ گے۔تم سُن چکے ہو کہ کس طرح صاحبزادہ مولوی عبد اللطیف صاحب جو ریاست کابل کے ایک معزز اور بزرگوار اور نامور رئیس تھے جن کے مرید پچاس ہزار کے قریب تھے جب وہ میری جماعت میں داخل ہوئے تو محض اس قصور کی وجہ سے کہ وہ میری تعلیم کے موافق جہاد کے مخالف ہو گئے تھے۔امیر حبیب اللہ خاں نے نہایت بے رحمی سے ان کو سنگسار کرا دیا۔پس کیا تمہیں ایسے لوگوں سے کچھ توقع ہے کہ تمہیں ایسے سلاطین کے ماتحت کوئی خوشحالی میسر آئے گی۔بلکہ تم تمام اسلامی مخالف علماء کے فتووں کے رو سے واجب