فقہ المسیح — Page 344
فقه المسيح 344 حکومت کی اطاعت کے لیے کرے اور اس قلمی جنگ میں اپنی وفاداری دکھائے ، جبکہ خود عادل گورنمنٹ نے ہم کو منع نہیں کیا ہے کہ ہم اپنے مذہب کی تائید اور غیر قوموں کے اعتراضوں کی تردید میں کتابیں شائع کریں بلکہ پریس، ڈاک خانے اور اشاعت کے دوسرے ذریعوں سے مدد دی ہے تو ایسے وقت میں خاموش رہنا سخت گناہ ہے۔ہاں ضرورت ہے اس امر کی کہ جو بات پیش کی جاوے وہ معقول ہو، اس کی غرض دل آزاری نہ ہو۔جو اسلام کے لیے سینہ بریاں اور چشم گریاں نہیں رکھتا وہ یا در کھے کہ خدا تعالیٰ ایسے انسان کا ذمہ دار نہیں ہوتا۔اس کو سوچنا چاہیے کہ جس قدر خیالات اپنی کامیابی کے آتے ہیں اور جتنی تدابیر اپنی دنیاوی اغراض کے لیے کرتا ہے۔اسی سوزش اور جلن اور درددل کے ساتھ کبھی یہ خیال بھی آیا ہے کہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم کی پاک ذات پر حملے ہو رہے ہیں، میں ان کے دفاع کی بھی سعی کروں؟ اور اگر کچھ اور نہیں ہوسکتا تو کم از کم پُر سوز دل کے ساتھ خدا تعالی کے حضور دعا کروں ؟ اگر اس قسم کی جلن اور درد دل میں ہو تو ممکن نہیں کہ سچی محبت کے آثار ظاہر نہ ہوں۔اگر ٹوٹی ہانڈی بھی خریدی جائے، تو اس پر بھی رنج ہوتا ہے۔یہاں تک کہ ایک سوئی کے گم ہو جانے پر بھی افسوس ہوتا ہے۔پھر یہ کیسا ایمان اور اسلام ہے کہ اس خوفناک زمانہ میں کہ اسلام پر حملوں کی بوچھاڑ ہورہی ہے۔امن اور آرام کے ساتھ خواب راحت میں سورہے ہیں۔کیا تم نہیں دیکھتے کہ ہفتہ وار اور ماہواری اخباروں اور رسالوں کے علاوہ ہر روز وہ کس قدر دو ورقہ اشتہار اور چھوٹے چھوٹے رسالے تقسیم کرتے ہیں جن کی تعداد پچاس پچاس ہزار اور بعض وقت لاکھوں تک ہوتی ہے؟ اور کئی کئی مرتبہ ان کو شائع کرنے میں کروڑ ہارو پیہ پانی کی طرح بہا دیا جاتا ہے۔ہر قسم کی بغاوت سے بچھ الحکم 31 مئی 1901 ، صفحہ 2 تا 4 ) اپنی جماعت کے لئے ضروری نصیحت“ کے عنوان سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے