فقہ المسیح — Page xxxix
حرف آغاز حکم عدل کا فقہی اسلوب جیسے بہت سے تجارب کے بعد طلاق کا قانون پاس ہو گیا ہے اسی طرح کسی دن دیکھ لو گے کہ تنگ آکر اسلامی پردہ کے مشابہ یورپ میں بھی کوئی قانون شائع ہوگا۔ورنہ انجام یہ ہوگا کہ چارپایوں کی طرح عورتیں اور مرد ہو جائیں گے اور مشکل ہوگا کہ یہ شناخت کیا جائے کہ فلاں شخص کس کا بیٹا ہے۔“ (نسیم دعوت۔روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 434) 8۔آنحضرت ﷺ کی پیشگوئیوں کی عزت و تکریم حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے شریعت کی بعض ایسی رخصتوں اور سہولتوں پر عمل فرمایا جنہیں خدا نے جائز قرار دیا ہے لیکن لوگوں نے از خود ایسی باتوں پر عمل چھوڑ دیا تھا۔مثلاً نمازوں کا جمع کرنا انسانوں کی سہولت کے پیش نظر جائز رکھا گیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو علاوہ سفروں اور موسمی خرابیوں کے خالص دینی ضروریات کے لئے بھی نمازیں جمع کرنی پڑیں اور بعض اوقات کئی مہینے تک نمازیں جمع ہوتی رہیں۔بعض معترضین نے اس پر اعتراض کیا تو آپ نے بڑی نرمی اور محبت سے اس بات کو سمجھایا کہ میں شریعت کے حکم کے مطابق اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عظیم پیشگوئی کو پورا کرنے کی خاطر نمازیں جمع کرتا ہوں اور نماز موقوتہ کے مسئلہ کو خدانخواستہ استخفاف کی نظر سے نہیں دیکھتا۔فرمایا: اس وقت جو ہم نمازیں جمع کرتے ہیں تو اصل بات یہ ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی تفہیم ، القاء اور الہام کے بدوں نہیں کرتا بعض امور ایسے ہوتے ہیں کہ میں ظاہر نہیں کرتا مگر اکثر ظاہر ہوتے ہیں۔جہاں تک خدا نے مجھ پر اس جمع بین الصلوتین کے متعلق ظاہر کیا ہے وہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لئے تُجْمَعُ لَهُ الصَّلواةُ کی عظیم الشان پیشگوئی کی تھی جو اب پوری ہورہی ہے۔“ الحکم 24 نومبر 1902 ءصفحہ 1) 17