فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxxviii of 611

فقہ المسیح — Page xxxviii

حرف آغاز حكم عدل کا فقہی اسلوب زور سے وہ آج کل پھیلا ہوا ہے۔اس کی تعلیم نہایت مستقیم اور قوی اور سلیم ہے گویا احکام قدرتی کا ایک آئینہ ہے اور قانونِ فطرت کی ایک عکسی تصویر ہے اور بینائی دلی اور بصیرت قلبی کے لئے ایک آفتاب چشم افروز ہے۔66 براهین احمدیہ ہر چہار حصص روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 82،81) اپنے موقف کے حق میں آپ نے زور دار دلائل بیان فرمائے۔تعدد ازدواج ہو یا ورثہ کی تعلیم جہاں عورتوں کے لئے نصف حصہ جائیداد میں مقرر ہے سب کے عقلی جواب دیئے۔متعہ کا اعتراض ہو یا متبنی بنانے کا مسئلہ ہر ایک بات کی حقیقت کھول کر رکھ دی۔نیوگ پر آپ کی طرف سے اُٹھائے جانے والے اعتراضات ہوں یا اُن کے جواب میں حلالہ کے مسئلہ کی آڑ لے کر دشمنوں کا جوابی اعتراض ہو ہر مسئلہ کو نکھار کر رکھ دیا۔آپ نے ارکانِ نماز کی حکمتیں بیان فرمائیں اور وضو اور نماز کے باطنی فوائد کے علاوہ ظاہری طبعی فوائد بھی بیان فرمائے۔اوقات نماز کی فلاسفی بیان فرمائی اور ثابت فرمایا کہ نماز کے متفرق اوقات زندگی کے حقائق اور حالات کے مطابق ہیں۔بچے کے کان میں اذان دینے کا مسئلہ ہو یا نماز با جماعت میں ظاہری مضمر فوائد ہوں اور حج کی حکمتیں سب مسائل کو عقلی دلائل سے پیش فرمایا۔آپ نے اپنی تحریرات اور تقاریر میں منقولی اور معقولی ہر دو طرح کے دلائل پیش فرماتے ہوئے اعتراضات کے جواب دیئے۔اور ایسے معترضین کو جو منقولی دلائل کو کوئی اہمیت نہیں دیتے تھے عقلی دلائل سے قائل کرنے کی کوشش کی۔فرمایا یہ بات اصلی بدیہات ہے جو سر گشتہ عقل کو عقل ہی سے تسلی ہو سکتی ہے اور جو عقل کا ر ہندہ ہے وہ عقل ہی کے ذریعہ سے راہ پر آ سکتا ہے۔( براہین احمدیہ ہر چہار حصص روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 67) پردہ کے مسئلہ کو معقول اور فطرت کے عین مطابق قرار دیتے ہوئے آپ نے انسانی ضرورتوں کی مثال پیش فرمائی۔فرمایا: 16