فقہ المسیح — Page 318
فقه المسيح 318 خرید وفروخت اور کاروباری امور سامنے کر دیئے کہ ان میں سے ایک اُٹھا لیں۔انہوں نے ایک لفافہ اٹھالیا اور دوسرے کو لے کر حضرت صاحب فورا اندر واپس چلے گئے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ مجھے حضرت والدہ صاحبہ سے معلوم ہوا ہے کہ یہ لفافے باغ کی تقسیم کے متعلق تھے چونکہ حضرت مسیح موعود نے باغ کا نصف حصہ لینا اور نصف مرزا سلطان احمد کو جانا تھا۔اس لئے حضرت صاحب نے اس تقسیم کے لئے قرعہ کی صورت اختیار کی تھی اور مرز انظام الدین مرزا سلطان احمد کی طرف سے مختار کار تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس تقسیم کے مطابق باغ کا جنوبی نصف حصہ حضرت صاحب کو آیا اور شمالی نصف مرزا سلطان احمد صاحب کے حصہ میں چلا گیا۔(سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 263) مجبور لوگوں کو مہنگے داموں غلہ فروخت کرنا جائز نہیں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ہم سب بھائی (یعنی خاکسار و برادران میاں جمال الدین مرحوم و میاں امام الدین صاحب) مسائل فقہی کی بناء پر گاہے بگا ہے بدین طریق تجارت کرتے تھے کہ غلہ خرید کر ضرورت کے موقع پر غرباء کوکسی قدر گراں نرخ پر بطور قرض دے دیتے اور فصل آئندہ پر وصولی قرضہ کر لیتے تھے۔جب حضور علیہ السلام کا دعویٰ ظاہر ہو گیا تو اس وقت بھی ایک دفعہ غلہ خرید کیا گیا کہ غرباء کو دستور سابق دیا جائے۔جب میں قادیان گیا تو مجھے خیال آیا کہ حضور علیہ السلام سے اس کے متعلق دریافت کرلوں۔چنانچہ حضور کی خدمت میں سوال مفصل طور پر پیش کر دیا۔حضور علیہ السلام نے جوابا فرمایا کہ تمہیں ایسے کاموں کی کیا ضرورت ہے؟ جس لہجہ سے حضور نے جواب دیا وہ اب تک میری آنکھوں کے سامنے ہے جس سے ثابت ہوا کہ حضور علیہ السلام کو ایسے کام بہت ناپسند ہیں۔پس واپس آکر ہم نے ارادہ ترک کر دیا اور بعد ازاں پھر کبھی یہ کام نہ کیا۔(سیرت المہدی جلد 2 صفحہ 250،249)