فقہ المسیح — Page 314
فقه المسيح 314 خرید وفروخت اور کاروباری امور صورتوں میں مرتہن نفع و نقصان کا ذمہ دار ہے۔پس رہن عدل کی صورت میں جائز ہے۔آجکل گورنمنٹ کے معاملے زمینداروں سے ٹھیکہ کی صورت میں ہو گئے ہیں اور اس صورت میں زمینداروں کو کبھی فائدہ اور کبھی نقصان ہوتا ہے تو ایسی صورت عدل میں رہن بیشک جائز ہے۔جب دودھ والا جانور اور سواری کا گھوڑارہن با قبضہ ہوسکتا ہے اور اس کے دودھ اور سواری سے مرتہن فائدہ اُٹھا سکتا ہے تو پھر زمین کا رہن تو آپ ہی حاصل ہو گیا۔پھر زیور کے رہن کے متعلق سوال ہوا تو فرمایا: زیور ہو کچھ ہو جب انتفاع جائز ہے تو خواہ نخواہ تکلفات کیوں بناتے جاویں۔اگر کوئی شخص زیور کو استعمال کرنے سے اس سے فائدہ اٹھاتا ہے تو اس کی زکوۃ بھی اس کے ذمہ ہے زیور کی زکوۃ بھی فرض ہے چنانچہ کل ہی ہمارے گھر میں زیور کی زکوۃ ڈیڑھ سو روپیہ دیا ہے۔پس اگر زیور استعمال کرتا ہے تو اس کی زکوۃ دے اگر بکری رہن رکھی ہے اور اس کا دودھ الحکم 24 را پریل 1903 ء صفحہ 11) پیتا ہے تو اس کو گھاس بھی دے۔رہن میں وقت مقرر کرنا سوال:۔ایک شخص دو ہزار روپے میں ایک مکان رہن لیتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ دوسال تک را ہن سے رو پیدواپس نہ لے۔کیا رہن کرتے وقت اس قسم کی شرط رکھی جاسکتی ہے یا نہیں ؟ اس سوال کے جواب میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی فرماتے ہیں: فقہاء کا مذہب تو یہ ہے کہ وقت کی پابندی جائز نہیں۔جب بھی راہن روپیہ دے وہ مکان مرتہن سے چھڑا سکتا ہے۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس پابندی کو جائز قرار دیا ہے۔چنانچہ جب مرزا نظام الدین صاحب کی دوکانیں حضرت ام المومنین نے رہن لیں تو انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے دریافت فرمایا کہ کیا وقت معین کیا جاسکتا ہے تو آپ نے اسے جائز قرار دیا۔پس یہ شرط میرے نزدیک جائز ہے بشرطیکہ رہن جائز ہو۔اگر رہن ہی ناجائز ہے تو