فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 304 of 611

فقہ المسیح — Page 304

فقه المسيح 304 پرده پردہ کی فلاسفی پرده حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے غض بصر اور پردہ کی تعلیم کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: خدا تعالیٰ نے ہمیں یہ تعلیم نہیں دی کہ ہم نامحرم عورتوں کو بلا تکلف دیکھ تو لیا کریں اور ان کی تمام زینتوں پر نظر ڈال لیں اور ان کے تمام اندا ز ناچنا وغیرہ مشاہدہ کر لیں لیکن پاک نظر سے دیکھیں اور نہ یہ تعلیم ہمیں دی ہے کہ ہم ان برگا نہ جوان عورتوں کا گانا بجاناسن لیں اور ان کے حسن کے قصے بھی سنا کریں لیکن پاک خیال سے سنیں بلکہ ہمیں تاکید ہے کہ ہم نامحرم عورتوں کو اور ان کی زینت کی جگہ کو ہرگز نہ دیکھیں۔نہ پاک نظر سے اور نہ نا پاک نظر سے اور ان کی خوش الحانی کی آواز میں اور ان کے حسن کے قصے نہ سنیں۔نہ پاک خیال سے اور نہ نا پاک خیال سے بلکہ ہمیں چاہئے کہ ان کے سننے اور دیکھنے سے نفرت رکھیں جیسا کہ مردار سے تا ٹھو کر نہ کھاویں کیونکہ ضرور ہے کہ بے قیدی کی نظروں سے کسی وقت ٹھوکریں پیش آویں۔سو چونکہ خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ ہماری آنکھیں اور دل اور ہمارے خطرات سب پاک رہیں اس لئے اس نے یہ اعلیٰ درجہ کی تعلیم فرمائی۔اس میں کیا شک ہے کہ بے قیدی ٹھوکر کا موجب ہو جاتی ہے۔اگر ہم ایک بھوکے کتے کے آگے نرم نرم روٹیاں رکھ دیں اور پھر امید رکھیں کہ اس کتے کے دل میں خیال تک ان روٹیوں کا نہ آوے تو ہم اپنے اس خیال میں غلطی پر ہیں۔سوخدا تعالیٰ نے چاہا کہ نفسانی قوی کو پوشیدہ کارروائیوں کا موقع بھی نہ ملے اور ایسی کوئی بھی تقریب پیش نہ آوے جس سے بدخطرات جنبش کر سکیں۔اسلامی پردہ کی یہی فلاسفی اور یہی ہدایت شرعی ہے۔خدا کی کتاب میں پردہ سے یہ مراد نہیں کہ فقط عورتوں کو قیدیوں کی طرح حراست میں رکھا جائے۔یہ ان نادانوں کا خیال ہے جن